درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 49 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 49

محمد کازل تا ابد هر چه است با گرایش نام او نقش بست چراغیکه پروانه بینش بد دست به فروغ همه آفرینش بدوست ضمان دار عالم سیه تا سپید به شفاعت گر روز بیم و امید درخت سبی سایه در باغ شرع : زمینی باصل آسمانی بفرع نه یار نگر اصل داران پاک به ولی نعمت فرع خواران خاک چراغیکه تا او بزوخت نور : زچشم جهان روشنی بود دور سیابی ده خال عباسیاں : سپیدی بر چشم عثمانیان لب از باد عیسی پر از نوش تر به تن از آب حیوان سیه پوشش تر شیخ سعدی فرماتے ہیں : د شرف نامه، ص۱۵۷۲) کریم التجايا جميل الشيم نبي البرايا شفيع الأمه : محمد جب کسی نام کی برکت سے ہر اس چیز نے صورت اختیار کی جو ازل سے ابد تک پیدا ہوئی ہے اور جو ابد تک پیدا ہوتی رہیں گی۔وہ ایسا چراغ ہے کہ بنیائی اس کا پروانہ ہے۔تمام کائنات کی روشنی اسی سے ہے ، وہ تمام جہان کے سیاہ وسفید کا کفیل ہے۔اور خوف اور امید کے دن یعنی روز قیامت شفاعت کرنے والا ہے۔شرع کے باغ میں سایہ دینے والا سید مصادر خست جسکی جڑیں زمین میں اور شاخیں آسمان میں ہیں۔وہ پاک وجودوں کی زیارت گاہ ہے۔اور تاکی انسانوں کی پرورش کر نے والا آتا ہے۔وہ ایسا چراغ ہے کہ جب تک اس کا نور نہ پھیلا، جہان کی آنکھ سے روشنی غائب رہی۔وہ عباسیوں کے خالی (نشان پرچم کو سیاہی دینے والا اور آفتاب پرستوں کی آنکھ کی سفیدی (اندھے پن کو دور کرنے والا۔اس کے لب دم عیسی سے زیادہ نہ زندگی بخش ہیں۔اور اس کا جسم آب حیواں سے زیادہ سیاہ پوش یعنی پوشید گے :۔عمدہ عادتوں اور پسندیدہ فصلتوں والا۔کل مخلوق کا نبی اور تمام امتوں کا شفیع۔