درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 48 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 48

آدمی زنده اند از جانش : انبیا گشته اند مهمانش شرع او را فلک مسلم کرد به خانه بر بام چرخ اعظم کرد اندر آمد بسیارگاه خدای : دامن جو اهنگی کشان در پای پیش او سجده کرد عالم دون به زنده گشته چو مسجد ذوالنون زیدہ جان پاک آدم از و به معنی بحر لفظ محکم d او ( حديقة الحقيقة ١٩٠٤١٨) یہ نعت اچھی ہے۔لیکن اس میں وہ بے ساختگی اور سلاست نہیں جو حضرت اقدس کی بیان کردہ نعت میں ہے۔اس کے مطالب کو کما حقہ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہیں صطلاحات تصوف پر پورا عبور ہو۔بعض مطالب بھی محل نظر ہیں۔جیسے دامن خواجگی کشان در پای " یہ متکبر لوگوں کا کام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسی متواضع ہستی کے لئے مجازاً بھی ایسے الفاظ استعمال کرنا مناسب نہیں۔مولانا نظامی گنجوی فرماتے ہیں سے فرستاده خاص پروردگار : رساننده حجبت استوار گرانمایه ته تاج آزادگان : گرامی تر از آدمی زادگان ے: ترجمہ : اس کی زندگی سے انسانوں کو زندگی ملتی ہے، اور انبیا بھی اس کے مہمان بنتے ہیں۔آپ کی شریعیت کو اہل فلک نے بھی تسلیم کر لیا اور آپ نے سب سے بڑے آسمان کی چھت کو اپنا اسیر بنایا۔وہ سرداری کا دامن اپنے پاؤں میں گھسیٹتا ہوا، بارگاہ خداوندی میں آیا۔اس کے سامنے تمام عالم سفلی نے سجدہ کیا اور سیدہ ذوالنون کی طرح زندہ ہو گیا۔وہ آدم کی پاک جان کا خلاصہ ہے اور لفظ محکم کے اچھوتے معنی ہیں : ے :۔خاص پروردگار عالم کا بھیجا ہوا، پریان حکم یعنی قرآن مجید کو (دنیا میں پہنچانے والا۔آزاد منش لوگوں کا سب سے زیادہ قیمتی تارج - آدم زادوں میں سے سب سے زیادہ معززہ۔