درثمین فارسی کے محاسن — Page 169
149 تحولوں کے عرف میں ایک مخصوص لفظ کے معنوں میں ہو جس کی ماضی مضارع وغیرہ مراد ہو تو حقیقت عرفی خاص ہے اور کرنے کے معنوں میں مجاز عرفی خاص ہوگا۔لفظ را بہ چار پایہ کے لئے حقیقت عرفی عام ہے۔اور انسان کیلئے ہوتو جاز عرفی عام اور الفاظ شیر اور نمانہ اور فعل اور دا به جوان مثالوں میں مذکور ہیں۔وہ حقیقت اور مجاز دونوں کی مثالیں ہیں اور الفاظ ، درندہ دلیر، عبادت ، دعا مخصوص لفظ کرنے ، دا بہ اور انسان جو او پر مذکور ہیں وہ سب ان چاریں لفظوں کے حقیقی اور مجازی معنوں میں تمیز کرنے کے لئے ہیں۔اوپر کہا گیا ہے۔کہ مجاز کے لئے علاقہ لازم ہے۔پس اگر وہ علاقہ تشبیہ کے علاوہ ہو ، مثلاً سبیت یا لزوم وغیرہ تو اسے مجاز مرسل کہتے ہیں۔اور اگر علاقہ تشبیہ کا ہو تو اسے استعارہ جس کا بیان قبل ازیں آچکا ہے۔مجاز مرسل : وہ لفظ ہے ، جو ایسے معنوں میں استعمال ہوا ہو جو ان معنوں کے علاوہ ہوں ، جن کے لئے وہ وضع کیا گیا ہو۔اور دونوں معنوں میں تشبیہ کے علاوہ کوئی اور علاقہ ہو جیسے۔۔گلی کی بجائے ججز کا ذکر کریں۔۔کسی چیز کو ایسے نام سے یاد کر نا جو عقیل۔جنہ کی بجائے کل۔مستب کی جگہ سبب ۴- سبب کی جگہ مستب میں اس کا نام ہوگا۔-4 - مظروف کی جگہ ظرف کا استعمال ظرف کی بجائے مظروف ۵ - کسی چیز کو اس نام سے ذکر کرنا جو ماضی میں 9۔چیز کی بجائے اس کے آلہ کا نام لینا۔۔اس کا نام تھا۔نوٹ :۔بشرطیکہ ان اقسام کا استعمال فصحاء کے کلام میں ہو۔اب حضرت اقدس کے کلام سے ان کی مثالیں دیکھئے : است۔