درثمین فارسی کے محاسن — Page 168
vhi درج کی جاتی ہے تا استعارہ کا مفہوم اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔حقیقت : وہ کلمہ ہے جو ان معنوں میں استعمال ہو، جن کے لئے وہ وضع کیا گیا ہو، اور وہ وضع کرنا اسی اصطلاح میں ہو جس میں کلام کر رہے ہوں۔مثلاً اصطلاح لغت میں اس کے وہی معنی ہوں جن معنوں میں وہ کم کسی عبارت میں استعمال کیا گیا ہے۔یا اصطلاح شرح میں اس کے و ہی معنی ہوں یا اصطلاح عرف ہیں۔مجانہ : وہ کلمہ ہے جو ان معنوں میں استعمال کیا جائے جن کے لئے وہ وضع نہیں کیا گیا اور اس کی دلالت ان معنوں پر کسی قرینہ کے قیام سے ہو۔نہ کہ قریہ کے بغیر وضع کرنے سے یہ مراد ہے کہ وہ لفظ بنفس خود اپنے معنوں پر دلالت کرنے کے لئے نایا گیا ہو۔نہ کہ قریہ قائم کرنے کے ذریعہ ہے۔اور مجاز کے لئے علاقہ ضروری ہے۔پس اگر حقیقی اور مجازی معنوں میں کوئی علاقہ نہ ہو۔تو اس لفظ کو مجازی معنوں میں استعمال کرنا غلط ہوگا۔چنانچہ اگر تو کہے کہ یہ گھوڑا لو اور اشارہ کتاب کی طرف ہو ، تو یہ استعمال درست نہیں کیونکہ ان میں کوئی علاقہ نہیں پایا جاتا۔اور ہر حقیقت یا مجاز یا لغوی ہوگا یا شرعی یا عرفی عام یا عرفی خاص کیونکہ اگر لخت کی اصطلاح میں اس کے وہی معنی ہوں جن میں وہ استعمال کیا گیا ہے تو اس کو حقیقت لوی کہیں گئے۔اور اگر شرع کی اصطلاح میں ہو۔تو اس کا نام حقیقت شرعی رکھتے ہیں۔اگر مرف ہے تو حقیقت عرفی۔اسی طرح اگر مجاز کو کسی اصطلاح میں ایسے معنوں میں استعمال کریں جس کیلئے وہ وضع نہیں کیا گیا۔اگر وہ اصطلاح لعنت ہو تو اسے مجاز لغوی کہیں گئے۔اگر وہ اصطلاح شرع ہے تو مجاز شرعی اور اگر وہ اصطلاح عرف ہے ، تو مجاز عرفی۔اس کی مثال لفظ شیر کا استعمال ایک مخصوص درندہ کے لئے حقیقت لغوی ہے اور بہادر آدمی کے لئے مجاز لغوی اور نماز کا لفظ مخصوص عبادت کے لئے حقیقت شرعی ہے اور دُعا کے لئے مجاز شرعی۔اور لفظ فعل