درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 170 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 170

14۔لے دید را کن جستجو اسے ناتمام به دور نه در کار خود بس سرد و خام در ثمین ) - تے سرد و نام سے ناتجربہ کار مراد ہے۔(سبب بجائے مستب) - آنچنای عشق تیز مرکب راند۔+ که از ان مشت خاک پیچ نماند دور مین ۳۳ ) مشت خاک سے انسان مراد ہے (ماضی کا نام) - خودت با اجل چیست از مکروبند : چه دیوانه داری کشیده بلنده دیواره یعنی روگ (آله) ه د در شین ) کے عشق دلبر بروئے او بارید : ابر رحمت بکوئے او باری دور ثمین (۳۳) ابر سے یہاں بارش مراد ہے (مستبب باسم سبب) سے آن کلام خدا نه بر فلک است : تا بگوئی که هست دور انه دست دست سے مراد ہے طاقت اور پہنچ (آلہ)۔لے ترجمہ اسے ناقص انسان معرفت کی تلاش کر دور نہ تو کچا اور نا تجربہ کار ہے۔کے ترجمہ : عشق نے گھوڑے کو اتنا تیز دوڑایا، کہ انسان کا کچھ بھی باقی نہ رہا۔دور ثمین ما کے ترجمہ : موت کے مقابلہ میں تیرے پاس کیا حیلے بہاتے ہیں، کیا تیر سے پاس کوئی بڑی روک ہے۔کے ترجمہ: محمود کا عشق اس کے چہرے سے ظاہر ہونے لگا ، رحمت کی بارش اس کے کوچہ میں برسنے لگی۔شے ترجمہ : خدا کا کلام آسمان پر نہیں کر تو یہ کہے کہ میری پہنچ سے دور ہے۔