درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 136 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 136

I ویسی ہی ناممکن باتوں کا مطالبہ کر دیتے ہیں۔اور جب وہ مطالبہ پورا نہیں ہوتا تو وہ خدا کے فرستادوں کا انکار کر کے ہر قسم کی برکتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ان قصوں سے اصلاح نفس میں بھی کوئی مدد نہیں ملتی۔جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے ، گناہ سے چھڑانے کا ذریعہ یقین کامل ہے۔اسی سے انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے۔یہ نہ ہو تونیکی کی طرف راغب ہونا مشکل ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں : گفتگو ها به زبان دل بے قرار دین شان بر قصته با دارو مدار فرق بسیار است در دید و شنید : خاک بر فرق کیسے کیسی را ندید دید را کن جستجو اسے نا تمام ور نه در کار خودی بس سرد و خام بر سماعت پولی همه باشد بنا : آکی نیفزاید جوئے صدق و صفا صد ہزاراں قصہ از روئے شنید بد نیست یکسان باجو سے کال سست نید دیں ہماں باشد که نورش باقی است و از شراب دید مردم ساقی است ست دور ثمین ۳ ) سے ترجمہ :۔ان کے دین کا دارو مدار قصوں پر ہے ، زبانوں پر تو باتیں ہیں لیکن دل کومت دار نہیں۔دید اور شنید میں بڑا فرق ہے۔اس شخص کے سریہ خاک جسے یہ بات سمجھ نہ آئی۔اسے ناقص انسان ! دید کی جستجو کر۔ورنہ تو اپنے کام میں بالکل خام رہے گا۔جب ساری بنیا د صرف شنید پر ہوں تو اس سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔وہ صدق و صفا میں جو پھر بھی زیادتی نہیں کرتی۔لاکھوں سنے سنائے قصے ذرا بھی اس چیز کی برابری نہیں کر سکتے ، جو آنکھوں دیکھی ہو۔دین وہی ہے جس کا نور باقی ہو اور ہر لمحہ دیدارہ کی شراب پلاتا ہو ہے