درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 135 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 135

۱۳۵ با خُدا ہم دعوائے فرزانگی به سخت جهل است و رگِ دیوانگی تافتن رو از خور تابان که من خود برارم روشنی از خویشتن عالمه را کور کردوست این خیال به سرنگوں افگند در چاه ضلال ناز بر فطنت مکن گر فطنتی ست به در ره تو این خردمندی بہتے ست عقل کان با کبر میداره ند حلق : هست حق و عقل پندارند متسلق کبر شهر عقل را ویران کند : عاملان را گره و نادان کند آنچه افزاید غرور و معجیبی : چون رساند تا خدایت اے غومی؟ در ثمین ) ۱۰۔قصوں سے پر ہیز ایک اور چیز جو انسان کے لئے بہت سی محرومیوں کا باعث بنتی ہے وہ قصے کہانیاں ہیں۔لوگ اپنے انبیا اور بزرگوں کے متعلق بہت سے عجیب و غریب اور مبالغہ آمیز قصے گھٹڑ لیتے ہیں۔جن کا حقیقت سے دُور کا تعلق بھی نہیں ہوتا اور جب کبھی نیا مامور آتا ہے تو اس سے ترجمہ:۔خُدا کے مقابل عقلمندی کا دعویٰ کرنا سخت جہالت اور دیوانگی ہے۔اس خیال کی بنا پر روشن سورج سے منہ پھیر لینا۔کہ میں اپنے اندر سے ہی روشنی نکال لوں گا۔اس نے ایک دنیا کو اندھا اور پہرا کر دیا ہے۔اور گمراہی کے کوئیں میں سر کے بل گرا دیا ہے۔اگر تجھ میں کچھ عقل ہے تو اس پر نازمت کمه ی عقلمندی تیری راہ میں ایک بہت ہے، لوگوں کے پاس جو تکبر سے آلودہ عمل ہے وہ دراصل ہیو قوقی ہے جسے وہ عقل سمجھ رہے ہیں۔تکبر عقل کے شہر کو اجاڑ دیتا ہے ، اور عقلمندوں کو گمراہ اور بیوقوف بنا دیتا ہے جو چیز غرور اور تکبر کو بڑھاتی ہے ، اسے گمراہ وہ تجھے خدا تک کیسے پہنچا سکتی ہے ؟