درثمین فارسی کے محاسن — Page 137
قصہ پا پیش می کنی ، ز ضلال : کائیں کرامات ہائے اہل کمال گر دریں قصہ یا اثر بودے پر دلت از رئیس، دور تر بودے رقصه با گربیاں گئی تو ہزار کے رند از تو، جبت دل زینهار ؛ زین قصص، پیچ راه نکشاید : صد ہزارای بگو، چه کار آید بخشی مد نے بارل لیستین به تای هندت ، دو دیده حق بین اندرون تو هست دیو خصال یا بر زباں ، قصہ ہائے ان ابدال ( در عین من۳۵) سے ترجمہ : تو کئی گراہ کن قصے پیش کرتا ہے کہ یہ اہل کمال کی کرامات ہیں۔اگر ان قصوں میں کوئی اثر ہوتا ، تو تیرا دل ناپاکی سے بہت دُور رہتا۔اگر تو ہزاروں قصے بھی بیان کرتا رہے ، تب بھی تیرے دل کی خباثت ہر گز دور نہیں ہو سکتی۔ان قصوں سے کوئی راستہ نہیں کھلتا ، لاکھوں بیان کرو، کس کام آسکتے ہیں۔کچھ مدت تو اہل یعتیں کی صحبت میں بیٹھ تا تجھے دو حق شناس آنکھیں ملیں۔تیرے اندر تو شیطان والی خصلتیں ہیں ، اور زبان پر ابدالوں کے قصے ہیں نہ