درثمین فارسی کے محاسن — Page 125
۱۲۵ هر که مهرش در دل و جانش فتد : ناگہاں جانے در ایمانش فتد کے زتاریکی برآید آن غراب : کور مدزین مشرق صدق و صواب آنکه او را ظلمتی گیر و براه : نیتش پٹوں رُوئے احمد مہر و ماہ تابعش بحر معانی می شود و از زمینی آسمانی می شود هر که در راه محند زد قدم : انبیاء راشد مثل آن محترم در ثمین ۲۰ ۲۱) ہے تو ہر گز دولت عرفاں نے باید کسے : گرچه میرد در ریاضت با وجهد بیشماری (در ثمین ص۱۲) کلام اپنی هست دا روئے دل کلام خدا کے شوی مست بز بجام چندانی شوی چند ور ثمین ص) ے ترجمہ : جس کے دل و جان میں اس کی محبت داخل ہو جاتی ہے ، اس کے ایمان میں اچانک جان پڑ جاتی ہے۔وہ کو اندھیرے سے کیسے نکل سکتا ہے، جو اس صدق و صفا کے چشمہ سے دور بھا گئے۔جس کسی کو راستہ میں تاریخی گھیرے ، اس کے لئے احمد کے چہرہ کے سوا اور کوئی چاند سورج نہیں۔اس کا پیرو معرفت کا مندر بن جاتا ہے اور زمینی سے آسمانی بن جاتا ہے۔جس کسی نے محمد کے طریقہ پر مت دم مارا وہ قابل عزت شخص نبیوں کا مثیل بن جاتا ہے۔ے ترجمہ تیرے بغیر رہے ہوں، کوئی بھی عرفان کی دولت نہیں پا سکتا، اگرچہ مینی مشقتوں اور کوششوں میں جان بھی گنواڑا ہے۔کے ترجمہ : دل کی دوا خدا کا کلام ہے، تو اس خدا کے جام کے بغیر کبھی مست نہیں ہو سکتا ہے