درثمین فارسی کے محاسن — Page 126
قدیر فرقان نزدت اسے غدار نیست : این ندانی کت جزائے یار نیست وحي فرقان مردگان را جاں وہد صد خبر از کوچه عرفان وید یقیں ہائے نماید عالمے : کان نه بیند کس بصدد عالم ہے ہے دور ثمین ) این کتا بے پیش چشم ما نهاد : تا از وراه بدی داریم یاد تاشناسی ای خدائے پاک را کو نماند خاکسیان و خاک راہی در تمین ص۲۳ ) ہست والله کلام که بانی : از جندا ، اکثر خندا دانی ارد ہائے زماں کو نفس نام : لیے کلام خدا نہ گردو رام ر این فسون است ، بهراین مارے گرلب یار ، یک دو گفتار ہے وه چه دارد اثر ، کلامِ حندا : دیو بگریزد ، از پیام خدا لے ترجمہ : اسے فدار تیرے نزدیک قرآن کی کوئی قدر نہیں تھے یہ علم نہیں کراس کے بغیر تیر کوئی مدد گار نہیں۔قرآن کی وحی مردوں کو زندگی بخشتی ہے، اور معرفت الہی کے کوچہ کی سینکڑوں خبریں دیتی ہے۔اور یقین کی ایک ایسی دنیا دکھاتی ہے ، جس کو کوئی سینکڑوں جہانوں میں بھی نہیں دیکھ سکتا۔کے ترجمہ : اسی خدا نے یہ کتاب ہماری آنکھوں کے سامنے رکھی ہے، تاہم اس کے ذریعہ ہدایت کا راستہ یاد کرلیں تا تو اس خدائے پاک کو پہچان سے ، جو دنیا والوں اور دنیا سے کوئی مشابہت نہیں رکھتا۔سے ترجمہ : خدا کی قسم یہ خدا کا کلام ہی ہے ، جو خدا کی طرف سے خدا شناسی کا ذریعہ ہے۔وہ پھنکارتا ہوا الہ دیا جس کا نام نفس ہے ، وہ خدا کے کلام کے بغیر رام نہیں ہوتا۔اس سانپ کا یہی منتر ہے کہ مجبو کے منہ سے ایک دو باتیں سنی جائیں، واہ واخدا کے کلام میں کیسی تاثیر ہے ، کہ اس کے پیغام سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔