درثمین فارسی کے محاسن — Page xiii
و آپکی فطرت میں الفت و محبت ودیعت تھی، مومنانہ فراست کے ساتھ آپ صاحب رؤیا اور کشوف بھی تھے لیکن اس کا اظہار قطعا نا پسند فرماتے تھے۔آپ طبعا اعتدال پسند تھے، افراط و تفریط سے نفرت تھی اور نمود و نمائش کو کبھی پسند نہ فرماتے تھے۔گوشہ نشینی کی طرف طبیعت راغب تھی۔مزاج میں انتہا درجہ کی سادگی تھی۔غرور و تکبر سے کوسوں دور تھے۔علیمی اور بردباری آپکی طبیعت میں رچی ہوئی تھی۔ان کی زندگی کا آرام کام میں ہی تھا۔گھر میں بھی حاجات ضروریہ کے سوا سب وقت کام میں ہی مصروف رہتے تھے۔پیدل چلتے تو تیز چلا کرتے تھے۔آپکی شخصیت ایسی تھی کہ دیکھنے والے کے دل میں آپ کے لئے احترام کے جذبات ابھر پڑتے۔آپ کا دروازہ ہر خاص و عام کے لئے کھلا رہتا اور بلا امتیاز سب کو اسی خندہ پیشانی اور اخلاق سے ملتے اور حاجت مندوں کی حتی الواسع حاجت براری کرتے۔علم دوست حضرات کا تانتا بھی بندھا رہتا۔اپنی گوناں گوں مصروفیات کے باوجود درس و تدریس کا سلسلہ بھی تادمِ مرگ جاری رہا۔زندگی کے آخری ایام تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کی پروف ریڈنگ کرتے رہے۔جب تک حکم الہی نے آپ کی قوت حیات سلب نہ کر لی آپ خدمت دین اور خدمت خلق کے فریضہ کی ادائیگی سے باز نہ رہے۔اس وقت رامہ صاحب مرحوم کی اولاد میں سے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی زندہ ہیں۔مکرم منیر الحق رامہ جوانی میں ہی انتقال کر گئے تھے۔مکرم سفیر الحق رامہ امریکہ میں، مکرم عبدالحمید رامہ جرمنی میں اور مکرم بشیر الحق نصیر الحق اور عزیز الحق پاکستان میں اور رفیعہ بیگم صاحبہ امریکہ میں ہیں ان سب نے اپنے والد کی خواہش کی تکمیل میں اس کتاب کے شائع ہونے میں دلچسپی لی۔خصوصاً مکرم سفیر الحق رامہ جنہوں نے اسکی اشاعت کے اخراجات ادا کئے۔ان سب کے لئے دعا کی درخواست ہے۔(IX)