درثمین فارسی کے محاسن — Page 95
۹۵ زیر هر که ذوق کلام یافته است را از این راه تمام یافته است ب گفتگوئے جانا نے : زندگی بخشدت بیک آنے روزخی کو عذاب پر چوں خم : اصل آن است لا یکلمہم دن نه گردد صفا نه خیز دیم به تا چو موسی نے شوہی تو کیم ہست داروئے دل کلام خدا کے شوی مست جز بیجام خدا تا نه او گفت خود : انا الموجود : عقدۂ ہستیش کے نکشور تا نه شد مشعله رغیب پدید : از شب تار جہل کسی نرسید تا نه خود را نمود خود دادار با کس ندانست کوئے ان الدار تانه خود از سخن یقین بخشید : کسی از زیندان ریب شک نرسید هر چه باشد ز زید و صدق و سداد بے یقیں سست باشدش بنیاد گر یقین نیست بر خدائے لگاں : از محالات قوتِ ایمان لے لے ترجمہ جس کسی کو کام کی لذت حاصل ہو گئی، اس نے اس راہ کا تمام بھید پالیا کسی عجوب کا چپکے چکے باقی کر ناپل بھرمیں تجھے زندگی بخش دیتا ہے، وہ دوزخ جو شراب کے مٹکے کی طرح عذاب سے بھرا ہوا ہے۔اس کی حقیقت یہی ہے کہ وہ محبوب حقیقی ان سے کلام نہیں کرے گا۔نہ تیرا دل صاف ہوگا۔نہ ہی تیرا خوف دور ہو گا جب تک تو موسی کی طرح کلیم نہ بن جائے۔دل کی دوا خدا کا کلام ہے ، تو خدا کے کلام کے جام کے بغیر کیسے مست ہو سکتا ہے ، جب تک اسی خود نہ کہا ک میں موجود ہوں کوئی بھی سکی مستی کا عقدہ نہ کھول سکا۔جب تک غیب سے کوئی مشعل ظاہرنہ ہوئی کسی نے بھی جہالت کی اندھیری اسے چھٹکاران پایا جب تک دانے خود اپنے تئیں ظاہر نہیں کی کسی کو اس الدار کی لیک پتہ نہیں جتک اپنے خو د بات کر کے یقین دلایا۔کوئی بھی شک شبہا سے قید خانہ سے آزاد نہ ہوسکا۔ہر خلوص اور راستی ہیں سے جو کچھ بھی ہے یقین کے بغیر کی بنیاد گزر رہی ہے گی۔اگر خدائے واحد پر یقین نہیں، توایمان کی پختگی امکانات میں ہے یا