درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 94 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 94

انکر داد از یقین دل جائے : بیست گفت یہ ان دلارام وصل دلدار و استی از جامش به همه حاصل شده نیز الهامش وصل آن یار، اصل ہر کامیست و انکر میں صل عاقل آن خامیست دور شین ۱۲۶-۱۳۳۰) الغرض حضرت اقدس کے کلام میں ایسے ایسے موتی ہیں جن کو دیکھ کر آنکھوں میں چکا چوند آجاتی ہے اور دل یہی چاہتا ہے۔کہ یہ بھی لے لو ، وہ بھی اٹھا لو۔لیکن آخر کہاں تک بات دامان نگه تنگ و گل حسن تو بسیار : گلچیں بہار تو ز دامان گله دار ونه تے ٣- سووحی والہام کے متعلق صرف ایک اور اقتباس پیش کیا جاتا ہے ، سے کے شوی عاشیق ریخ یار سے : تا نه بر دل پخش کند کار سے ہنچنیں زاں لیے دو گفتا ہے : آن کند کا رہا کہ دیدارے م عشق دلبر خوش خو به خیز و انه گفتگو چو دیدن رو ؛ گفتگو را کشش بود بسیار : بے سخن کم اثر کند دیداری لاجرم ے ترجمہ اوہ جیسے دلی یقین کا جام پلایا۔وہ اس دلا رام کی گفتار ہی تو ہے دلدار کا وصل اور اس کے جام کا نشہ سب اس کے الہام ہی سے حاصل ہوئے ہیں۔ہر مقصد کی بنیاد اس دوست کا وصل ہے جو شخص اس حقیقت سے ناواقف ہے۔وہ ابھی کچا ہے۔نے ترتیمیہ اپنی نگاہ کادامن تنگ ہے اور تیرے جن کے پھول بہت زیادہ ہی اسے ترے ہار کے ہمیں اپنے ایسے کر رہا ہے۔کے ترجمہ : توکسی معشوق کے رخ زیبا کا عاشق کیسے ہو سکتا ہے ، جب تک وہ ان دوں پر کچھ اثر نہ کر ے۔اسی طرح ان لیوں کے دو بول وہی اثر رکھتے ہیں۔جیسے محبوب کا، دیدار فینا خوش خو دلبر کا عشق گفتگو سے بھی بھڑکتا ہے جس طرح اس کا منہ دیکھنے سے کیلا میں بڑی کشش ہوتی ہے گفتگو کے بغیر دیدار کم ہی اثر کرتا ہے :