احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 63
63 اچانک کالی گھٹا نمودار ہوئی اور بارش کے موٹے موٹے قطرے گرنے لگے۔جلسہ میں خرابی کے پیش نظر آپ نے بڑی رقت سے دعا کی اور دیکھتے ہی دیکھتے مطلع صاف ہو گیا اور جلسہ کامیابی سے منعقد ہوا۔(بحوالہ حیات قدسی مطبوعہ ۱۹۵۴ - حیدرآباد دکن حصہ سوم صفحه ۲۶،۲۵ ) مولانا نذیر احمد صاحب مبشر غانا میں تھے کہ مخالفین نے یہ بات بنالی کہ اگر واقعی امام مہدی آچکے ہیں تو پھر زلزلہ آنا چاہیئے۔اگر چہ یہ کوئی معیارِ صداقت نہ تھا نہ ایسی کوئی پیشگوئی تھی لیکن آپ نے عاجزانہ دعا میں یہ عرض کیا کہ اے قادر و توانا! تو اپنی قدرت کا نشان دکھا۔قدرت حق کا کرشمہ دیکھیئے ، چند دن کے اندر اندر سارے نانا کی سرزمین شدید زلزلہ سے لرز گئی اور یہ بات بہتوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ بنی۔(بحوالہ روح پرور یا دیں صفحہ ۷۷ تا ۷۹ ) جان بلب مریضوں کی شفایابی، مشکلات سے رہائی ، نقصان سے حفاظت اور دعا کی برکت سے غیر معمولی تائید و نصرت کے واقعات اتنے ہیں کہ شمار سے باہر ہیں۔ایسے ایسے واقعات کہ دیکھنے اور سننے والوں کے لئے یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے یہ زندہ خدا کی قدرتوں کے زندہ نشان ہیں جو احمدیت کی دنیا میں بارش کے قطروں کی طرح ہر جگہ نازل ہورہے ہیں۔قبولیت دعا کا یہ عرفان ہے جو احمدیت نے دنیا کو عطا کیا ہے۔ان واقعات کے نتیجہ میں جو لذت اور ایمان افروز کیفیت احمدیوں کو نصیب ہوتی ہے وہ دوسروں کے نصیب میں کہاں؟ اختتامیه یہ وہ دولتیں ہیں جو احمدیت نے دنیا کو دیں۔یہ وہ روحانی نعمتیں اور برکتیں ہیں جو