احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟

by Other Authors

Page 64 of 64

احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 64

64 احمدیت نے دنیا کو عطا کیں۔شربت وصل و بقا اور آب بقا کے یہ شیر میں جام ہیں جو احمدیت نے چارسو بانٹے۔اے احمدیت کے جانثارو! آج تم ان نعمتوں کے امین ہو۔اس امانت کا خوب حق ادا کرو۔بلکتی اور سکتی ہوئی انسانیت کے لئے جام شفا آج تمہارے ہاتھوں میں تھمایا گیا ہے۔دنیا اخلاقی موت کے دھانے پر کھڑی ہے۔ابنائے دنیا کو آج اگر کوئی تباہی سے بچا سکتا ہے تو وہ غلامان محمد اللہ کے سوا اور کون ہو سکتا ہے۔پس اے رحمت دو عالم کے وفاشعار غلامو! اٹھو اور ظلمت و تاریکی کی راہوں میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کے لئے اپناتن ، من ، دھن سب کچھ قربان کر ڈالو۔اپنی درد بھری دعاؤں سے اسکی تقدیر جگا دو اور ساری انسانیت کے لئے رحمت کی موسلا دھار برسات بن جاؤ! لیکن یا درکھو کہ دنیا کو دینے سے پہلے لازم ہے کہ تم خودان برکتوں نعمتوں اور فیوض سے اپنے سینوں کو منور کر لو۔ان دولتوں سے اپنے دامن پوری طرح بھر لو، تا ان روحانی خزائن کو آگے پہنچانے کا حق ادا کر سکو۔اب یہ بار امانت تمہارے کندھوں پر ہے۔تم صاحب کوثر، محمد عربی ﷺ کے غلام ہو۔اس نسبت کی لاج رکھتے ہوئے ان خزانوں کو دنیا کے کناروں تک پہنچاتے چلے جاؤ کہ یہ دولتیں، یہ نعمتیں اور برکتیں کبھی ختم ہونے والی نہیں۔یا درکھو کہ انہی کی برکت سے دنیا کی تقدیر بدلے گی اور دنیا ایک دن ضرور محسن انسانیت، حضرت محمد مصطفے ﷺ کی غلامی میں آکر ہر دکھ سے نجات پالے گی۔آج اس خدمت کی سعادت تمہارے حصہ میں آئی ہے۔اس جانفشانی سے اس کا حق ادا کرو کہ ہمارا مولیٰ خوش ہو کر ہمیں اپنے دامنِ رحمت میں چھپالے۔اللہ کرے کہ یہ سعادت اور خوش بختی ہم میں سے ہر ایک کا نصیب ٹھہرے۔آمین یا ارحم الراحمین وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين