احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 50
50 قربانی جس کا نمونہ جماعت نے دنیا کو عطا کیا ہے! اولاد کی قربانی اولادکو راہ خدا میں قربان کرنا کوئی آسان بات نہیں۔اسکی عظمت اور حقیقت وہی جان سکتا ہے جو اس راہ سے گذرا ہو۔ایک ماں کے لئے اس سے بڑی قربانی تصور نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے جگر گوشے کو موت کے منہ میں جانے کے لئے بے خطر پیش کر دے۔احمدیت کی تاریخ گواہ ہے کہ احمدی ماؤں نے اس میدان میں وہ نمونے دنیا کو عطا کیئے کہ دنیا کی تاریخ ان سے محض نا آشنا ہے۔ایسی مائیں بھی ہیں جہنوں نے اپنے ایک، دو یا تین نہیں بلکہ چاروں کے چاروں بیٹیوں کو راہ خدا میں پیش کر دیا اور وہ مائیں بھی ہیں جنہوں نے اپنی کل کائنات، اپنا اکلوتا بیٹا اس راہ میں پیش کر دیا۔روتے ہوئے نہیں۔ہنستے ہوئے مسکراتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجالاتے ہوئے۔گوجرانوالہ کی اس بہادر ماں کو تاریخ کیسے بھلا سکتی ہے جس نے ایک عجیب شان سے اپنے بچوں کو شہادت کے لئے پیش کیا۔جس دن یہ اندازہ تھا کہ آج شہادت کی گھڑی آنے والی ہے یہ شیر دل ماں بجائے ڈرنے ، چھپنے اور رونے کے، اپنے جگر گوشوں کو نہلانے دھلانے اور صاف ستھرے کپڑے پہنانے میں مصروف تھی کہ اگر شہادت کا وقت آجائے تو یہ خوبصورت معصوم بچے ایک مومنانہ شان سے سجے سجائے اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو جائیں! خلافت ثانیہ میں ایک موقع پر وطن عزیز پاکستان کے دفاع کے لئے نوجوانوں کی ضرورت تھی حضرت مصلح موعودؓ نے احمدی نوجوانوں کو پاکستانی فوج میں شامل ہونے کی تحریک کی۔حالات ایسے تھے کہ ان دنوں فوج میں بھرتی ہونا گویا اپنے آپ کو موت کے مونہہ میں دھکیلنے