احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 49
49 49 میں کہہ رہے تھے کہ کاش میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے وقت اولین احمدیوں میں شامل ہوتا اور کاش میں ۱۹۹۰ تک زندگی پا کر اسلام کی خدمت کرتا چلا جاتا۔قربانی کا یہ بے مثال جذ بہ ایک ایسے شخص کا ہے جو معذور تھا۔چل پھر بھی نہ سکتا تھا، پہلو تک نہیں بدل سکتا تھا۔زبان میں بھی لکنت تھی لیکن اس فدائی کا دل کتنا متحرک اور جذبہ قربانی سے پر تھا۔(بحوالہ وہ پھول جو مرجھا گئے از چوہدری فیض احمد گجراتی حصہ اول صفحه ۶۰ تا ۶۲) قادیان کے ابتدائی زمانہ کی بات ہے۔خلافت ثانیہ میں ایک غریب خاتون کی قربانی کا واقعہ میری والدہ محترمہ نے کئی بار سنایا۔حضرت مصلح موعود مالی قربانی کی تحریک فرمارہے تھے اور یہ غریب اور نا دار خاتون اس بات پر بے چین ہو رہی تھی کہ مالدار لوگ تو قربانیاں کر رہے ہیں اور میں محروم رہی جاتی ہوں۔سخت بے چینی میں اٹھ کر گھر آئی۔گھر کی چیزیں بیچ کر تو پہلے ہی چندہ دے چکی تھی صحن میں مرغی نظر آئی وہی لا کر حضور کے سامنے پیش کر دی۔پھر بے تاب ہو کر گھر گئی اور دو تین انڈے اٹھا کر لے آئی۔قربانی کا جذبہ اتنا شدید تھا کہ آرام سے بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا۔ادھر حضرت مصلح موعود کا خطاب جاری تھا۔وہ اٹھی اور گھر آ کر ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ کچھ ملے تو جا کر وہ بھی پیش کر دوں۔خاوند ایک ٹوٹی ہوئی چار پائی پر بیٹھا تھا اس نے کہا کہ اب کیا ڈھونڈتی ہو، گھر میں تو کچھ بھی نہیں رہا۔اس خدا کی بندی نے جو اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کرنے کی قسم کھا چکی تھی بڑے غصہ سے کہا " چپ کر کے بیٹھے رہو۔میرا بس چلے تو میں تمہیں بھی بیچ کر چندہ میں دیدوں۔یہ ہے وہ سچی تڑپ جو جماعت احمدیہ کے ہر مرد و زن کا امتیاز ہے اور یہ ہے وہ جذبہ