احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟

by Other Authors

Page 51 of 64

احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 51

51 والی بات تھی۔ایک جگہ جب یہ پیغام پہنچایا گیا تو فوری طور پر سناٹا چھا گیا۔کوئی ایک نو جوان بھی نام لکھوانے کے لئے آگے نہ بڑھا۔وہاں ایک بیوہ عورت بیٹھی تھی۔اس بیچاری کا ایک ہی بیٹا تھا۔آئندہ اولاد کی بھی کوئی صورت نہ تھی۔خلیفہ وقت کی تحریک سن کر خدا کی بندی تڑپ اٹھی۔خدا اور رسول کے نام پر قربانی کی تحریک ہو، خلیفہ وقت کی طرف سے ہو اور یہ خاموشی؟۔اس شیرنی نے اپنے بیٹے کو آواز دیکر کہا: وو او فلانیا! تو بولتا کیوں نہیں۔کیا تو نے سنا نہیں کہ خلیفہ وقت نے احمدی نوجوانوں کو بلایا ہے؟“ سعادت مند بیٹے نے فوراً اپنا نام پیش کر دیا۔کوئی ہمیں دکھائے کہ باقی دنیا میں کہاں ہیں ایسی مائیں جو دین کی خاطر اس طرح اپنے جگر گوشوں کو پیش کرتی ہیں۔یہ اعزاز صرف احمدی ماؤں کو حاصل ہے جو دین کی خاطر اپنا سب کچھ مولیٰ کے حضور حاضر کرنے کا سچا عہد کرتی ہیں اور وقت آنے پر اس عہد کو سچ کر دکھاتی ہیں۔اس بیوہ خاتون نے جس والہانہ جذبہ سے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربانی کے لئے پیش کیا ، حضرت مصلح موعودؓ نے یہ واقعہ سنا تو یوں دعا کی: ”اے میرے رب ! یہ بیوہ عورت اپنے اکلوتے بیٹے کو تیرے دین کی خدمت کے لئے یا مسلمانوں کے ملک کی حفاظت کے لئے پیش کر رہی ہے اے میرے رب ! اس بیوہ عورت سے زیادہ قربانی کرنا میرا فرض ہے۔میں بھی تجھ کو تیرے جلال کا واسطہ دے کر تجھ سے یہ دعا کرتا ہوں که اگر انسانی قربانی کی ضرورت ہو تو اے میرے رب! اس کا بیٹا نہیں میرا بیٹا مارا جائے“ تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم صفحه ۱۱۴ بار اول مطبوعه ۱۹۷۲)