احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 12
12 ماننے والوں میں ایک پاکیزہ روحانی انقلاب پیدا کر دیا۔الغرض یہ سب کا رہائے نمایاں سرانجام دینے کے بعد زمانے کا امام، بانیل مرام اس دنیا سے رخصت ہوا اور آج اسکی جماعت اصلاح عالم، خدمت انسانیت اور اشاعت اسلام کی سچی تڑپ کے ساتھ ساری دنیا میں یہ عزم صمیم لئے سرگرم عمل ہے کہ محمود کر کے چھوڑیں گے ہم حق کو آشکار روئے زمیں کو خواہ ہلانا پڑے ہمیں احمدیت ایک شجر سدا بہار ہے۔یہ وہ درخت ہے جس کو مالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا۔اس کے ثمرات شیر میں اور عالمگیر ہیں۔عام طور پر ایک درخت کو ایک ہی قسم کے پھل لگا کرتے ہیں۔لیکن یہ عجیب درخت ہے جس کو ہر قسم کے تازہ بتازہ پھل لگتے ہیں اور پھل دینے کا کوئی ایک موسم نہیں۔ہر آن اسکی شاخیں شیریں میووں سے لدی رہتی ہیں۔یہ اسلام کی احیاء نو کا درخت ہے۔یہ احمدیت کا زندگی بخش درخت ہے۔یہ حضرت محمد مصطفے ﷺ کے غلام صلى الله صادق اور ہمارے امام عالی مقام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درخت وجود کا مظہر ، وہ شجرہ طیبہ ہے جس کی فیض رسانی کا دامن، زمان و مکان کی حدود سے بہت بالا ہے۔یہ ایک زندہ درخت ہے جس پر کبھی خزاں نہیں آتی۔یہ درخت حوادث کی آندھیوں میں اور بھی تیزی سے پھیلتا پھولتا اور پھل دیتا ہے۔جو اس کو کاٹنے کی کوشش کرتا ہے وہ خود کاٹا جاتا ہے۔جو اس کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کرتا ہے وہ خود خائب و خاسر اور ناکام و نامراد ہو جاتا ہے۔یہ وہ مبارک درخت ہے جس کا رکھوالا خود خدا ہے اس کی حفاظت اور ترقی کا ذمہ دار وہی قادر وتوانا ہے جو سب جہانوں کا مالک ہے۔