احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 22
22 حالات درست ہو گئے اور طرح طرح کے معاصی سے انہوں نے توبہ کی اور نماز کی پابندی اختیار کی اور میں صدہا ایسے لوگ اپنی جماعت میں پاتا ہوں کہ جن کے دلوں میں یہ سوزش اور تپش پیدا ہوگئی ہے کہ کس طرح وہ جذبات نفسانیہ سے پاک ہوں۔“ (روحانی خزائن مطبوعه لندن ۱۹۸۴ جلد ۲۲، حقیقته الوحی صفحه ۸۶ حاشیه ) ہندوستان کے ایک مشہور عالم دین مولوی حسن علی صاحب ۱۸۹۴ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دامن سے وابستہ ہوئے۔دینی خدمات کی وجہ سے ہندوستان میں ان کا بڑا شہرہ تھا۔کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ کو بیعت کر کے کیا ملا۔جواب دیا: وو مردہ تھا ، زندہ ہو چلا ہوں۔گناہوں کا علانیہ ذکر کرنا اچھا نہیں قرآن کریم کی جو عظمت اب میرے دل میں ہے حضرت پیغمبر خدا ﷺ کی عظمت جو میرے دل میں اب ہے، پہلے نہ تھی۔یہ سب حضرت مرزا صاحب کی بدولت۔۔ہے“ تائید حق مؤلفہ مولوی حسن علی صاحب - با رسوم ۲۳ دسمبر ۱۹۳۲۔اللہ بخش سٹیم پر لیس قادیان صفحہ ۷۹) حضرت مولانا غلام رسول را جیکی بیان کرتے ہیں کہ نواب خان صاحب تحصیل دار نے ایک بار حضرت مولانا نورالدین سے پوچھا کہ مولانا! آپ تو پہلے ہی با کمال بزرگ تھے۔آپ کو حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے زیادہ کیا فائدہ حاصل ہوا۔اس پر حضرت مولانا صاحب نے فرمایا: نواب خاں! مجھے حضرت مرزا صاحب کی بیعت سے فوائد تو بہت حاصل ہوئے ہیں لیکن ایک فائدہ ان میں سے یہ ہوا ہے کہ پہلے مجھے حضرت نبی کریم