احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟

by Other Authors

Page 15 of 64

احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 15

15 بلا واسطہ ملہم کر سکے اور کم سے کم یہ کہ ہم بلا واسطہ ملہم کو دیکھ سکیں۔سوئیں تمام دنیا 66 کو خوشخبری دیتا ہوں کہ یہ زندہ خدا اسلام کا خدا ہے۔" ( مجموعہ اشتہارات مطبوعه لندن ۱۹۸۴ جلد ۲ صفحه ۳۱۱) آپ نے اپنی ذات اور ذاتی تجربہ کو بطور ثبوت پیش کرتے ہوئے دنیا کو یہ خوشخبری عطا کی کہ دیکھو خدا نے مجھے اس نعمت سے سرفراز فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا: ” خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق ہو جانا بجز اسلام قبول کرنے کے ہرگز ممکن نہیں۔ہرگز ممکن نہیں۔آؤ میں تمہیں بتلاؤں کہ زندہ خدا کہاں ہے اور کس قوم کے ساتھ ہے۔وہ اسلام کے ساتھ ہے۔اسلام اس وقت موسی کا طور ہے جہاں خدا بول رہا ہے۔وہ خدا جو نبیوں کے ساتھ کلام کرتا تھا اور پھر چپ ہو گیا آج وہ ایک مسلمان کے دل میں کلام کر رہا ہے۔“ (روحانی خزائن مطبوعه لندن ۱۹۸۴ جلد ۱۱ ضمیمه انجام آنقم صفحه ۶۲) آپ کا یہ اعلان ایک انقلاب آفریں اعلان تھا جس نے مذہب کی دنیا میں ایک تہلکہ مچادیا۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کا یہ نقیب اور شاہد ایک مقناطیسی وجود ثابت ہوا جس کی طرف سعید فطرت لوگ قافلہ در قافلہ آنے لگے اور اس وجود کے فیضان سے سیراب ہو کر با خدا انسان بن گئے یہ وہ گروہ قدسیاں تھا جو ایک عالم کے لئے خدا نمائی کا وسیلہ بن گیا۔احمدیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے دنیا پر احسان عظیم فرمایا کہ دنیا کو وہ برگزیده مسیح موعود اور امام مہدی عطا کیا جس نے دنیا کو زندہ خدا کی خبر دی ، زندہ خدا کی زندہ تجلیات پر ایک زندہ ایمان اور محکم یقین بخشا۔اپنی ذات کو ہستی باری تعالیٰ کے ایک زندہ گواہ کے طور پر پیش کیا۔اور