احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 14
14 کہ اے میرے بندو! مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں سنوں گا اور اسی خدا کا یہ وعدہ بھی ہے کہ اگر تمہارا ایمان سچا ہوگا اور تم استقامت کی چٹان پر پختگی سے قائم ہو گے تو تمہیں وحی والہام کی دولت عطا ہوگی اور تم فرشتوں سے ہمکلام ہو سکو گے۔اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔لیکن افسوس کہ جب اس دور آخرین میں مسلمانوں پر عقائد و اعمال میں کمزوری کا دور آیا تو انہوں نے ان پیاری تعلیمات کو یکسر فراموش کر دیا۔مجیب الدعوات زندہ خدا پر ان کا ایمان اٹھ گیا۔اللہ تعالیٰ کی لقاء اور وحی والہام کے منکر ہو گئے۔یہ ساری باتیں جو قرآن مجید میں بڑی شوکت اور تحدی کے ساتھ بیان ہوئی ہیں اور جو در اصل اسلام کو سب مذاہب سے ممتاز کرتی ہیں افسوس کہ اس دور کے مسلمان ان سب باتوں سے کلیہ نا آشنا ہو گئے۔خدا تعالیٰ کی پیاری ہستی کا دلر با تذکرہ ان کی مجالس سے مفقود ہونے لگا۔کوئی نہ تھا جو خدا کے زندہ کلام کی بات کرتا ہو۔قبولیت دعا کا ذکر بھی ایک قصہ پارینہ بن گیا۔اس انتہائی تاریکی اور مایوسی کے عالم میں قادیان کی گمنام ہستی سے یہ نعرہ توحید بڑے جلال سے بلند ہوا وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار یہ پُر شوکت اعلان حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔آپ نے دل شکستہ مسلمانوں کو یہ نوید سنائی کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے جس کی پیاری صفات حسنہ میں سے کوئی صفت بھی مرور زمانہ سے معطل نہیں ہوتی۔وہ آج بھی سنتا ہے جیسے پہلے سنتا تھا، وہ آج بھی بولتا ہے جیسے پہلے بولتا تھا۔فرمایا: وو زندہ مذہب وہ ہے جس کے ذریعہ سے زندہ خدا ملے۔زندہ خداوہ ہے جو ہمیں