احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 31
31 سب مواقع پر اللہ تعالیٰ نے نعوذ باللہ آپ کی تو مدد اور دستگیری نہ کی اور جب حضرت عیسی علیہ السلام پر مشکل کی گھڑی آئی تو خدا تعالیٰ کی محبت اور قدرت جوش میں آگئی اور حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا گیا۔وہ اب تک زندہ ہے اور جب آخری زمانہ میں امت مسلمہ ہر طرف سے حملوں کی زد میں ہوگی ، جب دجالی طاقتیں ہر طرف سے اس پر چڑھ دوڑیں گی تو اس وقت یہی اسرائیلی نبی ان کے لئے نجات دہندہ کے طور پر آئے گا۔یہ ایک ایسا عقیدہ ہے جس کو لیکر عیسائی آنحضرت ﷺ کے مقابل پر حضرت مسیح ناصرتی کی فضلیت ثابت کرتے اور مسلمان اس خود ساختہ غلط عقیدہ کی بناء پر کچھ بھی جواب دینے کے قابل نہ تھے۔احمدیت آئی اور اس نے اس غلط عقیدہ سے عالم اسلام کو نجات بخشی۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے دنیا پر واضح کیا کہ حیات مسیح کے عقیدہ کا قرآن مجید اور مستندا حادیث میں کہیں کوئی ذکر نہیں بلکہ قرآن مجید کی ۳۰ آیات اور بے شمار احادیث سے ان کی طبعی موت ثابت ہوتی ہے۔عقلی طور پر بھی حیات مسیح کا عقیدہ صفات باری سے متصادم، شرک پیدا کرنے والا اور رسول اکرم ﷺ کی شان اقدس کو گرانے والا عقیدہ ہے۔تاریخی شواہد اور زمانہ حال کے انکشافات سے بھی وفات عیسی کی تائید ہوتی ہے۔احمدیت نے دنیا کو یہ نوید سنائی کہ آج امت مسلمہ اپنی اصلاح اور راہنمائی کے لئے کسی غیر قوم کے نبی کی محتاج نہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ آج ہر امت اور ساری انسانیت اپنی اصلاح کے لئے امت محمدیہ کی محتاج ہے۔پس خوشی سے اچھلو اور سجدات شکر بجالاؤ کہ آج غلامان محمد میں سے ایک جلیل القدر روحانی فرزند کو اللہ تعالیٰ نے غلام احمد کے طور پر بھیجا ہے جو اپنے آقا ومولیٰ محمد مصطفے ﷺ کے نقوش پا کی برکت سے امام الزماں بنایا گیا۔دیکھو اور سنو اور دنیا کو بتا دو کہ