دُختِ کرام — Page 307
۲۹۵ سمجھا امی سے بھی چھپالوں گی۔لیکن ہاں کی آنکھ تھی نہاں درنہاں دکھوں پر بھی پہنچ جاتی تھی۔کچھ روز بعد ناشتہ پر ہم اکیلے تھے نظریں نیچی کئے ہوئے کہنے لگیں بے بی امجھے تمہاری تکلیف کا اندازہ ہے۔نہ انہوں نے بات آگے بڑھائی نہ میں نے۔میری غیرت بھی رکھ لی اور میرا دکھ بھی بانٹ لیا۔میری تو زندگی ہی ابتلاوں میں گزری۔لاڈ پیار بے حد کیا لیکن کبھی مظلوم نہیں بنایا پہلی دفعہ جب میرے میاں (مرزا شمیم احمد صاحب مرحوم دل کے عارضے سے بیمار ہوتے تو قدرتی طور پر چھوٹی عمر تھی۔میں بے حد گھبرا گئی۔امی نے مجھے خط لکھا کہ زندگی میں ابتلا تو آتے رہتے ہیں۔ان کا مقابلہ بشاشت اور ہمت سے کرنا چاہیئے۔میری طرف دیکھو ہزاروں کڑے وقت آئے لیکن وہ وقت بھی سینس کھیل کر گزار دیا۔تمہارے ابا جان کی بیماری کی وجہ سے نکل نہ سکتی تھی تو کتابوں میں دل لگا لیا۔ہسپتالوں میں بھی مختلف لوگوں کے حالات سنتے دیکھتے وقت گزارا۔مجھے نئے نئے جوڑے بنوا کر دیتے اور فرمایا میاں کے سامنے اچھے کھلیتے میں آؤ۔اس کے سامنے غمزدہ صورت بناؤ گی تو دل کے مریض پر کیا اثر پڑے گا۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے اقبلا۔تو آتے لیکن ان سے مقابلہ کرنے کا سلیقہ اتنی ہی سے سیکھا۔میرے تجربات کے دائرے میں جو بھی لوگ آئے ان میں اتھی سے زیادہ با ہمت، دلیر ، صابر شاکر خاوند سے محبت کرنے والی، وفا شعار تعاون کرنے والا کوئی نہیں ملا۔ابا تیرہ چودہ سال دل کے عارضے سے بیمار رہے جب وہیل چیز پر پھرنے کے قابل ہوتے تو سندھ میں اپنی اراضی کی