دُختِ کرام

by Other Authors

Page 306 of 497

دُختِ کرام — Page 306

۲۹۴ ہوئیں مصطفے حالانکہ لڑکا تھا اور فطرتا شوخ لیکن اس نے کبھی شکایت کا موقع نہ دیا۔بھائی پاشا عمر کے لا ابالی حصہ میں تھے اس کمرے میں تو نہ رہ سکتے تھے لیکن ان کے پڑھنے کی میز اکثر اس کمرے میں منگوائی جاتی تاکہ وہ ان کی زیر نگرانی پڑھ سکیں بچپن کی نا بھی کی وجہ سے اکثر ان سے شکوہ کر دیتی تھی کہ ہم نے کتنا گھٹا ہوا بچپن گزارا لیکن آج ان حالات کو سمجھنے کی عقل آگئی ہے تو سوچتی ہوں کہ کتنی عقل سمجھ اور ہوش مندی سے ہماری ماں نے وہ وقت کاٹا۔اس وقت اگر میں اس چار دیواری میں بند نہ کیا ہوتا تو نہ جانے کس بڑی محبت میں پڑ جاتے۔ہجرت کے بعد سب کی مالی حالت خراب تھی اوپر سے یہ سنگین بیماری۔ابا مقروض بھی تھے سارا روپے پیسوں کا انتظام امنی کرتیں اور بڑی خوش ہوئی سے گھر بھی چلاتیں۔میری بین آیا قدسیہ کی شادی بھی انہی سالوں میں ہوئی۔قادیان سے جو سامان آسکا اسی کو کانٹ چھانٹ کر آیا قدسیہ کا جہیز بنا۔ابا پر کوئی بوجھ نہ ڈالا۔اکثر بتایا کرتی تھیں کہ میں نے ان دنوں میں کسی قرض دار کو خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹایا۔اگر میرے پاس آٹھ آنے ہوتے تو وہی دے دیا کرتی تھی۔ان سب باتوں کے باوجود اپنی بشاشت بھی قائم رکھتیں۔میں نے زندگی میں امی کو کبھی مظلوم شکل بنائے ڈھیری ڈھاتے نہیں دیکھا حد درجہ غیرت والی اور خود دار تھیں۔مردانہ وار دلیری سے حالات کا مقابلہ کرتیں۔اپنی کمزوری کا اظہار کبھی نہ ہونے دیتیں۔بچوں میں بھی اس بات کی غیرت ڈالتیں۔ایک دفعہ مجھے سخت جذباتی تکلیف پہنچی۔میں نے اپنے کسی رویہ سے اظہار نہ کیا۔میں نے