دُختِ کرام — Page 266
۲۵۴ پوچھا تک نہیں کہ قید کا زمانہ کتنا عرصہ رہے گا اور نہ ہی کسی قسم کی تکلیف کی شکایت کی۔بھائی مظفر احمد صاحب حضرت ماموں جان مرزا شریف احمد صاحب کے نمونہ سے بہت متاثر نظر آتے تھے۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو بعض لوگوں سے بڑے دُکھ پہنچے۔مگر آپ نے ضبط و تحمل کا دامن نہ چھوڑا۔ایک دفعہ بیت مبارک میں درس حدیث دے رہے تھے۔جب واقعہ افک کی حدیث جس میں حضرت عائشہ پر اتہامات کا ذکر ہے سنانے لگے تو حدیث سنانے کے ساتھ ساتھ روتے بھی جاتے تھے۔۔۔ہماری خالہ حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے اپنے شوہر اور ہمارے دادا حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی کئی سال کی لمبی بیماری میں تیمار داری اور خدمت کا وہ نمونہ دکھایا کہ دیکھنے والے اور ہماری ریاست مالیر کوٹلہ کی برادری والے اس پاک نمونہ سے بہت متاثر نظر آتے تھے۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی وفات کے وقت ہماری خالہ حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی عمر ۲۸ سال تھی۔اپنے شوہر کی وفات کے بعد ہماری خالہ کے ایام بیوگی کا زمانہ نہیں سال سے زائد بنتا ہے اس عرصہ میں پار کمیشن کا زمانہ آیا اور آپ گھر سے بے گھر ہوئیں مگر یہ تمام عرصہ صبر و رضا کے ساتھ گذارا۔انہی ایام میں آپ نے یہ اشعار کہے۔مولا سموم غم کے تھپیڑے پسند ، پسند اب انتظارم دفع بلیات چاہیئے