دُختِ کرام

by Other Authors

Page 265 of 497

دُختِ کرام — Page 265

۲۵۳ گھرے رہے اور زندگی کے آخری دس سال شدید بیمار رہے۔پانچ سال تو بالکل صاحب فراش رہے۔مگر تمام مصائب اور مشکلات میں سر تسلیم و رضا کے ساتھ آستانہ الہی کے آگے جھکا رہا۔اس عاجز کی خالہ سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحب نے مجھے سُنایا کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے کہا کہ آپ اپنے لیے دعا کریں۔جواب میں فرمایا کہ میں کیوں کروں۔کیا میرا مولا مجھے خود دیکھ نہیں رہا کہ میں کس حالت میں ہوں۔یہ وہ والہانہ عشقیہ انداز تھا جو کم و بیش آپ کے تمام بہن بھائیوں میں نمایاں جھلک دیتا رہا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی رفیقہ حیات حضرت ام مظفر احمد صاحبہ کی لبی تکلیف دہ بیماری کا مرحلہ صبرو رضا کے ساتھ گزارا۔اسی حالت صبر و شکر میں اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب شدید دوران سرکی بیماری میں مبتلا تھے خود کہا کرتے تھے کہ یہ تکلیف اکثر نا قابل برداشت ہو جاتی ہے۔یہ تکلیف قریباً پچیس سال رہی اور اسی حالت میں وفات ہوئی مگر کبھی ناشکری کا کلمہ زبان پر نہ لاتے۔۹۵۳تہ میں جب آپ کو مارشل لا کے دور میں قید کرلیا گیا۔جیل میں یہ ایام نہایت سکون اور صبر و رضا کے ساتھ گزارے۔ان دنوں صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب نے مجھے خود بتایا کہ وہ حضرت چچا جان کو ملنے گئے توانہوں نے آپ کو پورے سکون کے ساتھ مطمئن پایا۔انہوں نے کہا کہ چچا جان نے یہ