دُختِ کرام

by Other Authors

Page 267 of 497

دُختِ کرام — Page 267

۲۵۵ مانا کہ بے عمل ہیں نہیں قابل نظر ہیں خانہ زاد " پھر بھی مراعات چاہتے ٹھلے گتے ہیں سینہ و دل جاں بلب ہیں ہم جھڑیاں کرم کی فضل کی برسات چاہیئے پل مارنے کی دیر ہے حاجت روائی میں بس التفات قاضی حاجات چاہتے اتنا نہ کھینچ کہ رشتہ اُمید ٹوٹ جاتے کڑے نہ جس سے بات وہی بات چاہیئے ) در عدن صفحه ۵۸ ) یہ تو عبودیت کی آواز تھی اور اس کیفیت کی حامل جس نے حضرت عیسی علی السلام سے یہ کھلوایا کہ اے خدا اے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا لیکن ساتھ ہی اپنی بندگی کے پیش نظر کہتے جاتے تھے " تیری مرضی پوری ہو۔ہماری والدہ درخت کرام حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی بھی ہیں کیفیت تھی حضرت والد صاحب مکرم کی لمبی بیماری میں ان کی خدمت اور پھر خود ہماری والدہ کی اپنی بیماری ان کی حالت صبر و رضا اور عشق الہی کی عکاس ہے۔۔۔۔۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی راقم الحروف کے استاد بھی تھے اور اس عاجز کا آپ کے ساتھ گہرا تعلق تھا کوئی دنیاوی معامہ ایسا نہ ہوتا کہ میں انہیں دعا کے لیے نہ لکھتا۔ان محترم کے متعد د خطوط میرے