دُختِ کرام — Page 211
199 کیا۔۔۔۔۔۔پس فی الحقیقت جو خلاء کا احساس ہے وہ اپنی جگہ ایک الگ ایک آزاد حقیقت ہے ، لیکن خلاصہ کے مضمون کو سمجھنے کے بعد ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ جتنا بڑا خلا پیدا ہوتا ہے اس خلاصہ میں ہماری کمزوریوں کا بھی بہت بڑا دخل ہے اگر ہم برکتوں سے محبت کرنے والے ہوں اور حقیقتاً ان کی اہمیت کو سمجھنے والے ہوں تو ان برکتوں کو ہمیں اپنی ذات میں جاری کرنا چاہتے تھا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو ایک ایسے نور کے طور پر قرآن کریم نے پیش فرمایا جو خدا کے نور کی مثال ہے یہ نور اپنی پاکیزگی میں ایک حیرت انگیز استثنائی شان رکھتا ہے اپنی جلا میں اس کی کوئی دوسری مثال دکھائی نہیں دیتی۔۔۔۔۔۔وہ کسی قسم کے تعصبات یا نسلی رجحانات رکھنے والا نور نہیں ہے مشرق کے لیے بھی ہے مغرب کے لیے بھی ہے۔۔۔۔۔یہ نوکر پھیلنے والا نور تھا۔یہ ایسی شمع تھی جو دوسری شمع کو روشن کر سکتی تھی چنانچہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں اور بہت سے سینوں نے اپنے اندر اس نوکر کو مستعار لیا اور پھر اپنی شمعیں روشن کر لیں اور پھر جگہ جگہ مومنین کے سینہ میں اس نور کو چھکتا ہوا اور اردگرد کے ماحول کو روشن کرتا ہوا پایا گیا۔یہ دو مضمون تھا جس کو میں جماعت کے