دُختِ کرام

by Other Authors

Page 105 of 497

دُختِ کرام — Page 105

۹۳ ✔۔۔تھے ہم ڈاکٹر آپس میں باتیں کرتے ہیں کہ آج تک کسی مریض کا ایسا علاج نہیں ہوا اور نہ کسی مریض کی کبھی ایسی نرسنگ ہوئی ہے۔اگر آپ دو نرسیں رکھ لیتے تو بھی آپ کو ایسی نرسنگ نہیں مل سکتی تھی۔اتنا صاف اور باقاعدگی کا کام تھا کہ یوں لگتا تھا۔جیسے کوئی ٹرینڈ نرس کر رہی ہے بلکہ اس سے بھی بہت بڑھ کر بیماریوں کے دوران کئی دفعہ ابا جان کو ہسپتال داخل ہونا پڑا وہاں بھی امی جان کو نرس کا کام پسند نہ آتا تھا اور ڈاکٹر سے اجازت لے کر دوائیاں وغیرہ سب کچھ اپنے ذمہ لے لیتی تھیں ہزار ہا روپیہ ہر مہینے علاج پر پانی کی طرح خرچ ہوتا تھا۔ایک لمحہ کے لیے بھی امی جان کے دل میں یہ انقباض نہیں ہوا۔کہ یہ خرچ نہ کریں۔اور ساتھ ہی اتنا ہی صدقہ و خیرات - گھر کے باقی سب خرج کاٹ دیئے گئے تھے۔میری چھوٹی بہن فوزیہ سات سال کی تھی اب بڑی ہو کر اس نے بتایا کہ گڑیا لینے کو میرا دل بہت چاہتا تھا۔مگر میں امی کو نہیں کہتی تھی۔امی جان کوئن کہ بہت صدمہ ہوا۔انہوں نے ولایت سے پورے بچے کے قد کی گڑیا اب منگوا کردی۔مگر اس وقت سب سے مقدم ابا جان کی ذات تھی۔پانچ سال کے بعد پہلی دفعہ ڈاکٹر نے ابا جان کو دو قدم