دُختِ کرام — Page 104
۹۲ باپ اور دادا کے گھر میں حضرت مسیح موعود کی بیٹیاں بیاہ کر آئیں تو انہوں نے بھی اپنے نمونہ سے حضرت مسیح موعود کی بیٹیاں بن کر دکھایا۔اگر خاوندوں کی طرف سے محبت اور عزت اور احترام انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔تو حضور کی بیٹیوں کی طرف سے بھی ادائیگی حقوق میں بھی کمی نہیں آئی۔اقی جان نے ابا جان کی بیماری میں جو خدمت کی وہ سب کے لیے ایک مثال ہے۔۔۔۔۔۔امی جان نے اپنے ہاتھ سے ابا جان کے پاٹ تک اُٹھائے۔ایک وقت ایسا آیا کہ ڈاکٹروں نے ہدایت دی کہ ابا جان کو جتنا پانی دودھ وغیرہ ستیال چیزیں دی جائیں اس کا وزن لکھا جائے اور جتنا پیشاب آتے اسے ماپ کر لکھا جائے اب گرمیوں کے دن لمحہ لمحہ بعد پانی وغیرہ ناپنا اور پھر لکھنا اور ادھر پیشاب ناپ کر لکھنا یہ ساری محنت امی جان خود کرتی تھیں۔لڑکیاں جو شادی شدہ تھیں وہ اپنے اپنے گھروں کو جا چکی تھیں کب تک ٹھر سکتی تھیں سارا کام امی جان پر تھا مگرامی جان نے کبھی گھبراہٹ کا اظہار تک نہیں کیا۔خود بھی حوصلہ رکھا اور آیا جان کا حوصلہ بھی بڑھاتی رہیں اور کبھی بھی بیماری کے کمرہ کو DULL نہیں ہونے دیا۔ڈاکٹر یوسف صاحب را با جان کے مستقل معالج ، کتنے