دُختِ کرام

by Other Authors

Page 472 of 497

دُختِ کرام — Page 472

٤٤ تعلیم سے فارغ ہو کر میں حضرت مصلح موعود کے جاری کردہ ہفت روزه اصلاح سرینگر سے وابستہ ہوا، لیکن اس عظیم خاندان سے میرا رابطہ قائم رہا۔تہ میں پاکستان بننے کے بعد رتن باغ کے قیام کے زمانے میں حضرت نواب صاحب اور حضرت بگم صاحبہ کبھی کبھی کسی خدمت کے لیے یاد فرمایا کرتے تھے اس زمانے میں میری زیادہ تر مصروفیات تحریک کشمیر سے متعلق حضرت مصلح موعود کی زیر نگرانی ہوتی تھیں۔حضرت نواب محمد عبد الله خان صاحب علیل ہوتے مجھے اکثران کا سرا دور جسم دبانے کی سعادت حاصل ہوتی رہی۔متعدد بار بڑی اور چھوٹی بیگم صاحبہ دونوں حضرت میاں صاب کی تیمار داری اور دعا میں مصروف ہوتی یہ خاکسار ان کے لیے بمنزلہ اولاد تھا مگر وہ اسلامی طریق پر پردے کا اہتمام کرتی تھیں ان بزرگوں کے اخلاق کریمانہ ان کی بے مثال مروتوں اور نیکی کے اعلیٰ نمونوں کو یاد کر کے ان کے حق میں ان کے درجات کی بلندی کے لیے اور ان کے جملہ لواحقین کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں کہ یہ لوگ تخلقوا باخلاق اللہ کا عملی نمونہ ہیں۔پارٹمیشن کے بعد ہر خاندان متاثر ہوا۔اس خاندان پر بھی تنگی ترشی کا وقت آیا۔ایک دفعہ ربوہ میں حضرت بیگم صاحبہ کے ایک پرانے ملازم سے علاقات ہوئی وہ بوڑھے ہو چکے تھے میں نے پوچھا آجکل گزارہ کی کیا صورت ہے کہنے لگے اللہ کا فضل ہے چھوٹی بیگم صاحبہ خرچہ دے رہی ہیں اور اچھا گزارہ ہو جاتا ہے میرے لیے بڑے تعجب کی بات تھی کہ غیر سرکاری