دُختِ کرام — Page 471
۴۵۹ مجھے علم نہ تھا کہ کسی نمازی کے آگے سے گذرنا منع ہے۔حضرت میر محمدی حسین صاحب نماز پڑھ رہے تھے۔میں بے دھیان ان کے سامنے سے گزرنے لگا انہوں نے نعتاً اپنا دایاں بازو آگے اس انداز میں بڑھایا کہ وہ مجھے قدرے زور سے لگا اور اس کے بعد میں زندگی بھر کسی نمازی کے آگے سے نہیں گذرا۔ایک اور واقعہ یہ ہے کہ حضرت ڈاکٹر محمد طفیل خان صاحب میرے استاد اور محلہ دارالعلوم حلقہ نور کے صدر تھے انہوں نے مجھے ایک ریڈیک دی اور چار پانچ احباب سے ہر ماہ چندہ وصول کرتا اور انہیں پہنچانا مجھے سو پنا۔بعد میں میں اس حلقہ کا سیکرٹری مال بن گیا اور اس طرح بچپن سے ہی جماعتی کاموں کی لگن پیدا ہوگئی۔حضرت بیگم صاحبہ حد درجہ مہمان نوازہ تھیں اوروں کے واقعات تو بے شمار ہونگے لیکن حضرت مصلح موعود کے زمانہ میں بعض معزز اور مشاہیر مہمانوں کی فرودگاہ بھی کوٹھی دارالسلام ہوا کرتی تھی۔مجھے خوب یاد ہے ایک دفعہ اس وقت کے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ صاحب کو اپنے ایک سیکورٹی کے ساتھ بطور مہمان ٹھہرایا گیا حرم خواجہ غلام نبی گلکار جو شیر کشمیر کے زمانے میں معمار ملت " کہلاتے تھے اور آزاد کشمیر حکومت کے بانی صدر بنے تو انور کہلاتے وہ ابھی احمدی نہیں ہوتے تھے۔وہ بھی یہاں ہی ٹھراتے گئے۔مجھے یاد ہے کہ جمعہ پڑھنے کے لیے میں اُن کے ساتھ بیت اقصی گیا تھا گویا را ہنمایان کشمیر کے ساتھ میرا ابتدائی تعارف کو بھی دار السلام میں ہی ہوا۔