دُختِ کرام

by Other Authors

Page 457 of 497

دُختِ کرام — Page 457

۴۴۵ - میں نے بہت دفعہ شدت کے ساتھ چاہا۔حاضر ہونے کا ارادہ بھی کیا۔مگر کیا کہوں ؟۔۔۔۔۔سوائے اس کے کہ شاید میں واقعی کم بخت ہی تھا کہ مجھے اپنی اس کم بختی کی شدت کا آج اندازہ ہوا ہے۔دُکھ ، افسوس اور ندامت نے میرے زمین کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔مجھے اس غیر محسوس قلبی لگاؤ کا تو اس سے پہلے اور اک ہی نہیں تھا۔ایسے لگتا ہے کہ ہمارے گھر کا ایک بہت روشن گوشہ ہمیشہ کے لیے تاریک ہو گیا ہے۔اور میرے وجود کا ایک لازمی مگر غیر مرتی حصہ مجھ سے آج جدا ہو گیا ہے۔کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اب کیا کروں ! وقت تو مجھے دھول مٹی میں اٹا ہوا چھوڑ کر آگے نکل گیا شدت احساس سے یہ دو اشعار خود بخود ہی زبان پر آگئے ہیں سے نه خاک و خون کا رشتہ نہ جسم و جاں کا تھا کہ ان سے میرا تعلق فقط گاں کا تھا گروہ دستِ دُعا سر سے اُٹھ گیا تو گھلا یہ ربط جاں تو کسی طفل اور ماں کا تھا ۵٫۱۹۸۷ و ۷ آج حضرت بگیم صاحبہ نے ہمیشہ کے لیے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے۔اس خوشبو کی طرح فضاؤں میں بکھر گئی ہیں جسے اب کبھی سمیٹا نہیں جاسکتا چھوا نہیں جاسکتا۔بس محسوس کیا جا سکتا ہے۔زمین کو امین بنا کر یہ مقدس امانت اُسے سونپ دی گئی ہے۔انہیں دفن کر دیا گیا ہے۔وہ ہزاروں ہزار لوگ جنہیں ان کی عقیدت دور دراز مقامات سے لمحوں میں کھینچے