دُختِ کرام — Page 456
۴۴۴ جب کسی نہ کسی حوالہ سے اُن کا ذکر خیر دن میں دو تین بار ہمارے گھر میں نہ ہوا ہو۔خوبی قسمت سے محترم والد صاحب کو یہ سعادت عظمی حاصل تھی کہ انہوں نے شیر خوارگی میں حضرت بیگم صاحبہ کا دودھ پیا ہوا تھا۔اور یوں بیگم صاحبہ کی جسمانی اولاد کے علاوہ سارے عالم میں شاید وہ واحد خوش بخت ہیں جنہیں مسیح موعود علیہ اسلام کی دُخت کرام کے رضاعی بیٹے کا اعزاز حامل ہوا۔اور لا ریب کی عمر والی بات ہے۔سر اُٹھاتا ہوں تو افلاک کوس کرتا ہے ی نور بقدر ظرف ہم سب بہن بھائیوں تک بھی منتقل ہوا۔اور ہم سبکو حضرت بیگم صاحبہ سے ذاتی اور خصوصی قرب حاصل رہا۔میٹرک تک میں بھی بکثرت اُن کے پاس جاتا رہا۔وہ پیار کرتی تھیں۔لمحہ ماؤں جیسا شفیق ہوتا تھا۔اور اکثر اوقات اپنے ہاتھ سے کچھ نہ کچھ خوردونوش کے لیے بھی سلطا فرماتی تھیں۔مگر میٹرک کے بعد میں شاید ایک دفعہ بھی ان کی خدمت میں حاضر نہ ہوسکا۔میرے سن شعور نے شاید مجھے بے شعوری کے دور میں دھکیل دیا تھا۔ایک عجیب طرح کا حجاب پیدا ہوگیا تھا مگر اُس عظیم ہستی نے ہمیشہ مجھے یا درکھا۔اکثر والد مالی سے اور میری امی جان سے میرے متعلق کو چھپتی رہتی تھیں۔بے شمار دفعہ یاد فرمایا بلکہ دو ایک دفعہ تو مشفقانہ سختی کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ: آخر کیوں نہیں آتا وہ کم بخت کیا میرے گھر سے اسکا پردہ ہے ؟