دُختِ کرام — Page 416
۴۰۴ ہٹ گئی کہ آپ مجھے اندر نہ بلائیں اور آپا لیلی نے مجھے اشارہ بھی کیا۔میں سمجھی کہ انہوں نے اندر آنے سے منع کیا ہے حالانکہ انہوں نے بتایا کہ میں نے ٹھہر جانے کا اشارہ کیا تھا کہ ابھی بیگم صاحبہ بات کر لیں تو اندر جاتی ہوں لیکن میں یہ سوچ کر کہ کل صبح وقت پر آجاؤں گی گھر لوٹ آتی۔لیکن وہ صبح دوبارہ کبھی نہیں آتی۔میں آپ کے گھر پہنچی تو آپ ابدی نیند سو چکی تھیں۔سب کی آنکھیں اشکبار تھیں۔چاروں طرف عموں کے بادل چھاتے ہوتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لاڈلی سب کو تڑپتا بلکتا چھوڑ کر اپنے رب کے حضور بے حساب نیکیوں کو اپنے دامن میں سجائے ہوئے حاضر ہوگئیں۔آپ سنکھ کی ٹھنڈی اور میٹھی نیند سو رہی تھیں ایسے گھتا تھا کہ کوئی شہزادی گہری نیند سو رہی ہے۔اور ابھی بیدار ہو جاتے گی۔چہرہ کے گرد نور کا ایک ہالہ تھا۔اور ہوں پر مسکراہٹ۔ادھر آپ رخصت ہوئیں ادھر آسمان پر بادل بھی اشک برسانے لگے اور سات دن تک ابر رحمت کے قطرے خراج عقیدت پیش کرتے رہے۔آپ نے اپنے پیچھے پھولوں اور پھلوں سے لدا مہکتا ہوا ایک گلشن چھوڑا۔جس کی آپ نے بہترین آبیاری فرمائی وہ آپ کے رنگ ہیں رنگین ہیں اور ان کی شامیں دُور تک پھیلی ہوتی ہیں۔خدا تعالٰی ہر آن آپ کی دعاؤں کا سایہ ان پر قائم رکھے آپ خود ان کی حفاظت فرماتے۔آمین