دُختِ کرام

by Other Authors

Page 415 of 497

دُختِ کرام — Page 415

۴۰۳ میری بیٹی نمرہ کی رضاعی بہن ہے حضرت بیگم صاحبہ نے اس کی نگہداشت کے لیے تاکید فرمائی۔اور فرمایا کہ وہ پڑھائی میں لا پروا ہے جتنا اس کا دماغ ہے اس طرح وہ پڑھتی نہیں۔تم اس سے اس طرح لاڈ پیار نہ کرو کہ اس کی تربیت خراب ہو، بلکہ ذراسختی کرنا۔آپ کی توجہ دلانے پر میں چھٹی کے بعد اس کو پڑھا دیا کرتی تھی۔کبھی کبھی آپ مجھے بھی دُعا کے لیے فرمایا کرتیں حالانکہ میں کیا اور میری دعا کیا یہ تو آپ کا حسن ظن تھا ایک دن گئی تو آپ نے سر باندھا ہوا تھا۔میں نے طبیعت پوچھی تو آپ نے مسکرا کر فرمایا۔خود ہی دیکھ لو۔پھر فرمایا۔تم میرے لیے دُعا نہیں کر رہی اس لیے خراب ہے۔وفات سے چند روز قبل میں ملنے گئی تو آپ نے مجھے پاس بٹھا لیا اور مسکراتے ہوئے مسلسل باتیں کیں جو کمزوری کی وجہ سے کسی وقت سمجھ میں نہ آتی تھیں میں بالکل آپ کے چہرہ کے قریب ہو کر سنتی پھر جب میں اُٹھ کر واپس لوٹی تو دروازہ پر جا کر اچانک میں نے مڑ کر دیکھا تو آپ مسلسل دیکھے سے مجھے دیکھ رہی تھیں۔ایسے لگتا تھا کہ جیسے آپ کو اپنی حالت کا پتہ لگ گیا ہوا تھا۔پھر جس دن وفات ہوئی۔تو بھی قدرت مجھے وہاں لے گئی۔وہاں گئی تو پتہ چلا کہ آپ کی طبیعت خراب ہے میں نے دروازے پر کھڑے ہو کر جھانکا تو آپ کے پاس آپ کی بڑی بیٹی محترمہ طیبہ صاحب بیٹھی باتیں کر رہی تھیں آپ نے سر اُٹھا کر میری طرف دیکھ کر پوچھا کون ہے آپا بیٹی نے کہا قیوم ہے۔میں جلدی سے پیچھے