دُختِ کرام — Page 393
۳۸۱ ایک دفعہ ایک شادی کی تقریب کے موقع پر میں آپ کے ساتھ ایک ہوٹل میں گئی۔آپ نے مجھے اپنے ساتھ بٹھایا۔اور اپنے دست مبارک سے مجھے کھانا ڈال کر دیا۔اس پر پاس بیٹھی ہوئی ایک خاتون نے بڑی حیرت سے کہا کہ آپ اپنی خادمہ کو اپنے ساتھ کھلاتی ہیں۔میں تو ایسے کبھی نہ کروں آپ نے فرمایا کہ اسے میں نے بیٹیوں کی طرح رکھا ہوا ہے جب یہ میرا خیال رکھتی ہے تو میں کیوں اس کا خیال نہ رکھوں۔ایک دفعہ آپ کی طبیعت بڑی نا ساز تھی۔آپ نے مجھے بلا یا میں گئی تو بڑی محبت سے ملیں حالانکہ آپ کو بات کرتے ہوئے دقت محسوس ہو رہی تھی اس کے باوجود آپ نے اپنی بیٹی سے فرمایا کہ زہرہ کو پانی پلاؤ اور اس کے میاں کو بٹھاؤ۔ئیں وہ خوش نصیب ہوں کہ جس کی شادی بھی آپ کے مبارک ہاتھوں ہوتی۔بعد میں جب بھی آپ سے ملنے کے لیے جاتی تو پوچھتیں کہ تم اپنے گھر میں خوش ہونا ! تمہیں خوش دیکھ کر مجھے تسلی ہو گئی ہے۔پھر مجھے دیکش انداز میں نصایح فرماتیں۔میں بجھتی ہوں کہ آپ کا مجھ ناچیز پر یہ آنا برا احسان ہے کہ میں اس کا بدلہ کسی طورا دا نہیں کر سکتی۔بعض اوقات لوگ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کی بڑی خدمت کی ہے لیکن میں سوچتی ہوں کہ آپ نے مجھ پر جس قدر احسانات کئے اور میرے لیے جتنی دُعائیں کیں اس کے مقابلہ میں میری خدمت کیا معنی رکھتی ہے مجھے اس بات پر فخر تھا اور ہے کہ میں آپ کی خادمہ ہوں اور آپ نے بھی مجھے بڑی محبت اور عزت سے بیٹوں کی