دُختِ کرام

by Other Authors

Page 392 of 497

دُختِ کرام — Page 392

شفقت مادرانه از محترمہ زبیر نسیم صاحبہ دارالعلوم غربی ریاوه ) میں نے اپنی زندگی کا ایک حصہ آپ کے سایہ عاطفت میں گذارا۔دنیا کی نظروں میں تو میں محض ایک خادمہ تھیں، لیکن آپ نے مجھے ہمیشہ اپنی بیٹی ہی سمجھا۔اکثر لوگ بیٹی کہہ تو دیتے ہیں لیکن کہنے میں اور سمجھنے میں بڑا فرق ہے آپ نے جو کہا کر کے دکھایا۔آہ ! وقت کتنی جلدی گذر جاتا ہے اور صرف یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔گذشتہ چند سالوں سے آپ شدید بیمار تھیں اور چل پھر نہ سکتی تھیں، لیکن اتنی سخت بیماری کے باوجود آپ بہت با ہمت بلند حوصلے والی اور بہت زندہ دل تھیں۔انتہائی بیماری کے دنوں میں بھی آپ نے نماز کو کبھی فراموش نہیں کیا بے ہوشی کی حالت میں بھی نماز کے متعلق دریافت فرمائیں۔ہمیں بھی ہمیشہ نماز پڑھنے کی تلقین کرتیں اور فرمایا کرتی کہ قرآن پاک کی روزانہ تلاوت کرنے سے دماغ روشن ہوتا ہے آپ کا یہ معمول تھا کہ تلاوت کے بعد ہم کو حدیث شریف کا درس دیا کرتیں۔بڑے ہی بلند اخلاق کی مالک تھیں۔آپ کے پاس ایک بے سہارا عورت بطور خادمہ تھی بعض اوقات ہم لڑکیاں اُسے چھیڑ تیں تو وہ بہت پڑتیں اور تلملاتی ہوئی آپ کے پاس چلی جاتیں آپ اسے اپنے پاس بٹھاتیں اور اپنے ہاتھ سے کھانا دیتیں اور ہمیں نصیحت فرمائیں کہ اس کو تنگ نہ کیا کرو۔