دُختِ کرام — Page 388
دل خون کے آنسو رونے لگ جاتا ہے۔خدا کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے اتنی عظیم اور بابرکت مہستی کی خدمت کا موقع عطا فرمایا کتنا خوش قسمت وہ دور تھا جب ہر وقت مجھے ان کی خدمت کا موقع ملا تھا۔اور ان کی نصیحتیں سنا کرتی تھی۔بیگم صاحبہ ہمیشہ سچ بولنے کی تلقین کیا کرتی تھیں فرماتی تھیں کچھ بھی ہو ہمیشہ سچ بولور مجھے بہت افسوس ہوتا ہے جب بعض لوگ مجھے یہ کہتے ہیں کہ شمیم تم نے میٹرک کر کے ضائع کر دیا، لیکن ایسے لوگ کیا جا نہیں کہ کہنے کو تو بڑے آرام سے کہہ دیتے ہیں مگر یہ بھی نہیں سوچتے کہ میرے دل پر کیا گزرتی ہے میں نے تو حضرت سیدہ نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کو اپنی ماں سمجھ کر خدمت کی ہے اور وہ تو ساری جماعت کی ماں تھیں وہ تو جماعت احمدیہ کو اپنی مقبول دعاؤں میں یاد رکھنے والی عظیم اور بابرکت مہستی تھیں۔دوسروں کی بات توجہ کے ساتھ سنا کرتی تھیں۔دوسروں کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھتی تھیں لوگوں کا بڑا خیال کرتی تھیں۔مجھے انہوں نے کبھی نوکر نہیں سمجھا تھا۔ہمیشہ فرمایا کرتی تھیں۔تمیم تمہیں تو میں نے اپنی بیٹی بنا کر رکھا ہے " کھانا کھانے سے پہلے ہم سب لڑکیوں کو کہا کرتی تھیں کہ " پہلے تم سب کھانا کھا لیا کرو۔مجھے فکر ہوتی ہے " لیکن میں جب تک بیگم صاحبہ کو کھانا نہیں کھلا یا کرتی تھی خود نہیں کھاتی تھی۔آپ سب کے لیے بہت دُعا کرتی تھیں۔جب آپ کے پاس دُعا کے لیے لوگوں کے خطوط آتے تو آپ فورا خط پڑھ کر دعا کرتی تھیں۔