دُختِ کرام — Page 389
آپ حساب کتاب اور لین دین کے معاملہ میں بہت صاف تھیں اگر کسی کے پیسے دینے ہوتے تھے۔تو فوراً ادا کر دیا کرتی تھیں بیگم صاحبہ نے اپنا کیش کمیس میرے سپرد کیا ہوا تھا۔مجھ سے کھلوایا کرتی تھیں۔مجھ پر بیگم صاحبہ کو بڑا اعتماد تھا ، جب کبھی آپ کے بیٹے بیٹیاں آتیں تو انہیں کہتیں کر شمیم میرا حساب کتاب لین دین بڑا اچھا سنبھالتی ہے اگر کبھی میں ایک دن کے لیے گھر چلی جاتی تو بعد میں کسی اور سے کیش کمکس نہ کھلوائیں۔حضرت بیگم صاحبہ عبادت و ریاضت میں خاص دلچسپی رکھتی تھیں آپ نہایت اعلیٰ کردار اور بلند مرتبہ شخصیت کی حامل تھیں۔آپ نے شدید بیماری کے باوجود کبھی نماز نہیں چھوڑی ہر صبح سویرے اٹھنا نماز پڑھنا اور قرآن پاک کی تلاوت کرنا آپ کا معمول تھا۔اور جو لڑکیاں صبح کو جلدی نہیں اُٹھتی تھیں ان کو آپ آوازیں دے کر جگایا کرتی تھیں اور نماز اور قرآن کریم پڑھنے کی تلقین کیا کرتی تھیں۔ایک دفعہ میں ابھی فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگی تھی کر بیگم صاحبہ نے بلا لیا مجھے کہنے لگیں۔نماز پڑھ لی ہے۔میں نے عرض کیا جی ہاں پڑھ ہی ہے۔فرمایا قرآن پاک نہیں پڑھا میں نے عرض کیا کہ ابھی پڑھنے لگی تھی کہ آپ نے بلا لیا۔فرمایا جاؤ اور قرآن کریم پڑھ کر میرے پاس آنا ، حضرت بیگم صاحبہ نے کبھی بھی نماز و تلاوت قرآن کریم کا نا ر نہیں کیا۔اگر کبھی طبیعت زیادہ خراب ہوتی تو قرآن پاک کی ایک آیت ہی تلاوت کر لیا کرتیں۔آخری نصیحت بیگم صاحبہ نے مجھے یہ کی کہ نماز کبھی نہیں چھوڑنی چاہتے۔خدا کی پکڑ ایک نہ ایک دن ضرور آتی ہے۔لیکن انسان سمجھتا نہیں " رمصارح جنوری فروری)