دُختِ کرام — Page 387
۳۷۵ چند مترک با دیس یا از مخزر شمیم اختر صاحبه بنت مکرم محمد صدیق صاحب ریاوه ) حضرت بیگم صاحبہ سے ا را گسیت شانہ کو میری پہلی ملاقات ہوتی۔بیگم صاحبہ نے مجھ سے میرا نام اور میری تعلیم کے بارہ میں پوچھا تومیں نے اپنا ام بتایا اور عرض کیا کہ میں نے میٹرک کیا ہے فرمانے لگیں" میں پڑھنے والی لڑکیوں کو نہیں رکھتی۔اس پر میں نے کہا کہ میں اب پڑھنی نہیں ہوں۔بلکہ آپ کی خدمت کرنے کے لیے حاضر ہوتی ہوں۔چنانچہ میں حضرت بیگم صاحبہ کے پاس رہنے لگی۔میں نے دیکھا کہ وہ مقدس اور سراپا رحمت اور جلیل القدر بزرگ ہستی جو اس زمانہ میں عظیم الشان خدائی نشانوں کی منظور تھیں نہایت با وقار خوش اخلاق شیریں زبان دشیریں کلام اور سنجیدہ موتین تھیں اور بے حد صابر و شاکر بھی۔میں نے ان کی قریباً دو سال خدمت کی ہے۔میرا کام چوبیس گھنٹے ان کے پاس رہنا تھا۔اور ان کا ہر کام میرے ذمہ تھا۔میں اپنے ہاتھوں سے بیگم صاحبہ کو ناشتہ کروایا کرتی تھی اور دونوں وقت کا کھانا کھلانا بھی میرے ذمہ تھا۔اسی طرح غسل کروانا - کپڑے بدلوانا۔مجھے بیگم صاحبہ کی خدمت کرنے میں اتنا مزہ آتا تھا کہ الفاظ میں بتایا نہیں جاسکتا۔جی چاہتا ہے دوبارہ وہ وقت لوٹ آئے۔گر گیا وقت اب کہاں سے واپس آئے۔جب بیگم صاحبہ کی یاد آتی ہے تو