دُختِ کرام — Page 384
۳۷۲ علیہ السلام کے متعلق کچھ بتلا میں تو فرمایا کہ میں تو اس وقت بہت چھوٹی تھی۔اور حضرت اماں جان کی طرف سے خصوصی ہدایت تھی کہ میرے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے وصال کا ذکر نہ کیا جائے تاکہ آپ کی یاد سے بچی کو تکلیف نہ پہنچے اس لیے جو کچھ دیکھا تھا وہ بھی یاد نہ رہا تاہم اتنا یاد ہے کہ ان دنوں جب حضرت خلیفہ المسیح الاول قرآن کریم کا درس دیا کرتے تھے تو بعض اوقات مجھے اپنی گود میں بٹھا لیتے۔حضرت سیدہ بیگم صاحبہ کو میرے بچوں سے بھی بہت پیار تھا۔عزیزی زہرہ کے نکاح کے بعد رخصتانہ میں جب کچھ تاخیر ہوئی تو آپ کی خدمت میں دُعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ جلد اس کے میاں کے باہر سے آنے کے سامان پیدا فرماتے۔چنانچہ ایک دفعہ فرمانے لگیں کہ طاہرہ ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تم ایک روپیہ کوگوڑ لگارہی ہو اب تم تسلی رکھو کہ یہ کام جلد سرانجام پا جائے گا بعد میں آپ کی یہ مبارک خواب جلد پوری ہوگئی۔اور زمرہ کی شادی کا فرض بخیر و خوبی سرانجام پایا۔رخصتی کے وقت عزیزہ کو آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر پیار اور دعائیں لینے کی توفیق علی اس موقع پر آپ نے میرے داماد کو تحفہ بھی دیا۔میرے سب سے چھوٹے بیٹے عزیز کلیم الدین سے بھی بہت شفقت فرما ہیں کئی دفعہ اسے اپنے پاس بلا کر شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پیار کیا نیز تبرکات سے بھی نوازا۔میری بیٹی کے ہاں شادی کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے لڑکی پیدا ہوئی۔تو اپنی شدید کمزوری اور بیماری کے باوجود عزیزہ کو بلوا کر اپنے کانپتے ہوئے دست مبارک سے نوزائیدہ بچی کو پیار دیا۔