دُختِ کرام

by Other Authors

Page 365 of 497

دُختِ کرام — Page 365

۳۵۳ خدا اصدق الصادقین ہے۔اس کی سنت اور وعدے اس کے نیک بندوں کو ہی ملتے ہیں اس سلسلہ کے قیام کی ایک عرض ہے جو اس غرض کو پورا کرتا ہے وہ اس کے فضلوں کا مورد ہوگا۔اور سلسلہ کے قیام کی غرض حضور نے یہ بیان فرمائی ہے :- سلسلہ کے قیام کی اصل غرض یہی ہے کہ لوگ دنیا کے گند سے نکلیں اور اصل طہارت حاصل کریں اور فرشتوں کی سی زندگی بسر کریں: الملفوظات جلد ۸ ص ۱۴۹ ) پس خدا اپنے بندوں کو اپنی نعمتوں برکتوں اور وعدوں سے کبھی محروم نہیں کرتا۔نیک اعمال فروتنی اور عاجزی کی دُعائیں۔اس کے احکام پر عمل۔اس کی منشا کے مطابق زندگی بسر کرنے والے خدائی وعدوں کے مستحق ہوتے ہیں۔مبارک ہے وہ انسان جو صدق وصفا سے صبر و ثابت قدمی کی راہ پر گامزن رہتا ہے۔خدا کی نعمتوں سے اس کے نیک بندے کبھی محروم نہیں رہے۔اس کے وعدوں پر سنچا ایمان پر لغزش سے بچاتا اور پہاڑوں جیسا ثبات عطا کرتا ہے اس کے کلام سے راہنمائی حاصل کرنے والے کبھی راہ سے بھٹکتے نہیں۔جو شخص اس دنیا میں آیا۔اس نے ایک روز اس دنیا سے رخصت ہونا ہے کیا۔پیارا فقرہ فرمایا تھا۔حضرت صدیق اکبر نے :-