دُختِ کرام — Page 366
۳۵۴ کہ جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عبادت کرتا تھا وہ اس حقیقت کو جان لے کہ محمد فوت ہو چکے ہیں اور جو خُدا کی پرستش کرتا تھا وہ جان لے کہ خدا زندہ ہے صرف وہی فنا و زوال سے مبرا ہے یہ اور شاعر نے اس حقیقت کو کیا اچھے شعر میں بیان کیا وہ کہتا ہے۔دانش میں خون مرگ سے مطلق ہوں بے نیازہ یں جانتا ہوں موت ہے سنت رسول کی ” ہما رے آسمانی آقا ! جس طرح آپ نے دخت کرام کو اس دنیا میں کریمیانہ زندگی عطا فرمائی۔تیری شان کریمانہ اور صفت کرم کا واسطہ اگلی دنیا میں بھی انہیں اپنی رحمت وکرم کے سایہ میں رکھیو۔اور آپ کے پسماندگان اور ہم سب کو آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔آمین یا رب العالمین۔ماہنامہ مصباح جنوری فروری شاه