دُختِ کرام — Page 278
۲۶۶ اماں جان کی طرح اپنی چھوٹی بیٹی کو دے دوں گھر نا انصافی سے ڈرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔خدا کرے اسے طے جو میری طرح اس کی حفاظت کرے۔میں نہیں چاہتی میرے بچوں کو نا دہندگی کی عادت پڑے اور لوگوں کا پیسہ لیکر مضم کر جایا کریں مجھے سخت نفرت ہے اس بات سے۔اللہ تعالیٰ سب کو دیانت و امانت کی توفیق عطا فرماتے۔میں نے حضرت بھائی صاحب سے خود سنا ہے کہ اپنا حق چھوڑنے والا بھی گناہ گار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔فوزیہ چھوٹی اور بزدل بھی ہے میں نے اس سے چھوٹے بچے کا سلوک کیا ہے اس کے لیے میرا دل گود کے بچہ والا ہے۔اسی طرح مصطفیٰ کے لیے بھی ، مگر خیر۔۔۔۔۔میں اُمید کرتی ہوں کہ میرے بیٹے اپنی دو مینوں (شاہدہ اور فوزیہ ) کا خاص خیال رکھیں گئے۔اگر ایسا میری خاطر کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں بہت بڑی چیزا دیگا خصوصاً عزیزم عباس اور امتہ الباری کو بطور فرض بھی کرنا چاہیئے وہ خاندان کے ہیڈ ہیں۔ان کی بھی بیٹی ہے اگر وہ اچھا نمونہ دکھا ئیں گے۔تو ان کے بیٹے بھی بہین کو اسی طرح جائیں گے عباس احمد نے میری بہت خدمت کی ہے اور میری بہت دعائیں لی ہیں۔اس کے گھر مجھے کسی پر اتے کا احساس