دُختِ کرام — Page 263
۲۵۱ اس بات سے بہت گھبراتی تھیں کہ میری وجہ سے کسی پر بوجھ نہ پڑے کوئی تکلیف نہ اُٹھاتے اپنے نفس پر تکلیف گوارا کر لیتی تھیں گرفتی الوسع دوسرے پر کسی قسم کا بوجھ ڈالنے سے گھبراتی تھیں۔ان کی اس طبیعت کی وجہ سے ہیں ان کی بیماری میں بہت احساس رہتا تھا کہ امی جان ہماری تکلیف کے خیال سے اپنی تکلیف چھپائیں گی اور ہوا بھی اسی طرح کہ ایک گھنٹہ سے ہم باتیں کر رہی تھیں آنے والوں کو پانی وغیرہ پلوانے کو کہ رہی تھیں باورچی کے بیٹے کو بلوا کر کچھ پھیل وغیرہ دیا ہمیں کہا کہ اب جاؤ دوپہر ہوگئی ہے میں نے آرام کرنا ہے۔ہم چار بہنیں وہاں موجود تھیں ہم لوگ باہر آگئے فوزیہ کو ہم نے کہا تم سو جاؤ۔تم ساری رات جاگتی رہی ہو مجھے کچھ گھر میں کام تھا۔قریب ہی گھر تھا پھر بھی میں کار میں گئی کہ جلدی سے ہو کر آتی ہوں ابھی گھر میں آکر پندرہ بیس منٹ ہوتے تھے کہ فون آگیا کہ طبیعت یکدم خراب ہو گئی ہے جلدی آجاؤ میرا لڑکا عزیز تسلیم احمد جو ڈاکٹر ہے ہمیں کار میں لے کر جلدی پہنچا ابھی دوسرے ڈاکٹر صاحب نہیں آتے تھے عزیزم تسلیم احمد نے جلدی جلدی نن دیکھی مگر قبض نہ ملی به نھیں رکھیں مصنوعی سانس دلانے کی کوشش کی مگر وہ تو اللہ کو پیاری ہو چکی تھیں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی آخری نشانی ہم سب اور ساری جماعت کو سوگوار چھوڑ کر اس دنیا سے چلی گئیں۔اللہ تعالیٰ کی بے حساب رحمتیں اور برکتیں ان پر ہمیشہ نازل ہوتی رہیں اور خدا تعالیٰ ہمیں ان کے ایک نمونہ پر چلنے کی توفیق عطا فرماتے اور ان کی دعاؤں کا فیض ہمیشہ ہمیں مہار ہے۔آمین ر ماهنامه مصباح جنوری فروری شانه ) >