دُختِ کرام — Page 262
۲۵۰ کوئی تکلیف والی بات بتاتی تھیں تو سخت جذباتی ہو جاتی تھیں۔ایک دفعہ بتایا کہ میری شادی کے شروع سالوں کا زمانہ تھا ایک دن بڑے بھائی رحضرت خلیفہ المسیح الثانی قادیان میں ہمارے دادا کی کوٹھی دار السلام آئے ہوتے تھے مجھے دیکھ کر فرمانے لگے تم کچھ پریشان لگ رہی ہو کیا بات ہے۔اتنی جان کہنے لگیں یہ سنتے ہی میری آنکھوں سے آنسو گرنے شروع ہو گئے۔مجھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ یاد رکھو بعض وقت RACE کا آخری گھوڑا سب سے آگے نکل جاتا ہے۔صبر و ضبط مبر جیسا کہ میں نے امی جان کو کرتے دیکھا ہے وہ بھی غیر معمولی ہے زندگی کے آخری سالوں میں ایک دو ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے توڑ کر رکھدیا۔سب سے پیاری اور سب سے چھوٹی بیٹی عزیزہ فوزیہ کے میاں عزیزم مرزا شمیم احمد صاحب کی وفات بظاہر تو لگتا تھا کہ برو است کر گئی ہیں مگر اندر ہی اندر کھوکھلی ہو گئیں اور مختلف بیماریوں کا شکار ہوگئیں۔یہ تو ان کی طبیعت تھی اور خدا کا فضل تھا کہ اپنی بشاشت اور ہر بات میں دلچسپی آخر وقت تک قائم رکھی۔اتنی لمبی بیماری کے باوجود امی جان کے پاس بیٹھ کر کوئی بو نہیں ہو سکتا تھا۔ہمارے بچے تک " بڑی امی کی کمپنی میں پوری دلچسپی لیتے تھے۔