دُختِ کرام

by Other Authors

Page 213 of 497

دُختِ کرام — Page 213

٢٠١ كنت السواد لناظري نعمى عليك الناظر من شاء بعدك فليمت فعليك كنت احاذر یہ صحابہ کے دل کی وہ کیفیت تھی جسے حضرت حسان بن ثابت کی زبان نے بیان کر دیا کہ اسے جدا ہونے والے میرے محمد میرے پیارے تو وہ نور تھا جس سے میں دیکھا کرتا تھا تو میری آنکھوں کی پہیلی تھا ہاں آج تو جدا ہوا ہے تو میں آنکھوں کے نور سے محروم ہو گیا ہوں مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔من شاء بعدك فليست اب جو چاہے تیرے بعد مرتا پھرے فعليك كُنت احاذر مجھے تو صرف تیرا غم تھا کہ تو نہ ہاتھ سے جاتا رہے وہ صحابہ بھی برکتوں کے مفہوم کو سمجھتے تھے اور جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم برکتوں کو اپنے تک محدود رکھنے کے لیے نہیں آئے تھے بلکہ کل عالم میں پھیلانے کے لیے آتے تھے ایسا نور لاتے تھے جو مشرق اور مغرب میں چکنے والا ہے جو بادشاہوں کے محلوں اور فقیروں کی کٹیاؤں میں چکنے والا تھا۔جو کوئی تفریق نہیں کرنے والا تھا۔اس کے باجود جہاں تک ذاتی شان کا تعلق ہے اس کے جُدا ہونے سے لازماً اندھیرا دکھائی دینا چاہیئے تھا کیونکہ مقابل پر جو ٹور تھے ان کی حیثیت آزادرانہ طور پر اتنی نہیں تھی کہ ایک جانے والے