دُختِ کرام — Page 214
٢٠٢ نور کی کمی کو کوئی ایک دم پورا کر سکے۔ستارے سورج کے غروب ہونے کے وقت فوراً تو روشنی نہیں دکھایا کرتے یعنی شام کے دھندلکے اور جھٹپٹے کا وقت کچھ دیر باقی رہتا ہے اور طبیعتوں میں اُداسی پیدا کر دیتا ہے۔شام کی اُداسی کا فلسفہ دراصل یہی ہے روشنی غائب ہو چکی ہوتی ہے سورج جا چکا ہوتا ہے اور ستارے ابھی اپنی روشنی دینا شروع نہیں کرتے اس لیے کہ گتے ہوئے سورج کی روشنی میں بھی وہ ماند دکھائی دیتے ہیں۔وہ روشنی ابھی باقی رہتی ہے یاد باقی ر مہتی ہے اسی طرح حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کا احساس تو نمایاں کر دیا لیکن ستاروں کو ابھی یہ توفیق نہیں بخشی تھی کہ وہ فوراً مطلع پر ابھر کے اپنے آپ کو دکھانا شروع کریں اور اپنی روشنی کو پھیلانا شروع کریں اس لیے یہ جوڑ یا سنگھم کا زمانہ بڑے گہرے غم اور فکر کا زمانہ تھا اور حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کا محسوس ہوتا ایک طبعی امر تھا۔اسی طرح ہر بزرگ کی جدائی درجہ بدرجہ محسوس تو ہوتی ہے اور خلا۔بھی پیدا ہوتے ہیں۔۔۔۔۔اور ایک شدت کے ساتھ خلا کا احساس ہوتا ہے، لیکن جب آپ تجزیہ کریں تو اس کے علاوہ اور بھی بہت سے پہلو ہیں جو اس عمل میں کار فرما دکھائی